بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے موقوفہ زمین پرنچلی منزل میں دکانیں بنانا


سوال

کیا فرماتےہیں علمائےکرام اس مسئلےکےبارےمیں کہ ایک زمین مسجدکےلیےوقف کی گئی ہے ۔اب مقامی لوگ وہاں مسجد بنارہے ہیں،لیکن اس مسجد کا نقشہ اس طرح رکھا گیاہےکہ نیچےزمین پر دکانیں ہوں گی اور دکانوں کے چھت کے اوپر مسجد بنائی جائےگی۔اب سوال یہ ہےکہ اس طرح مسجد کےلیےوقف کی گئی زمین پردکانیں بناکران کے اوپرمسجدبنانا جائزہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ جب زمین کسی خاص  مصرف کےلیے وقف کی جائےاور وقف تام بھی ہوجائےمثلامسجد کےلیے وقف کی ہوئی زمین میں اگرایک مرتبہ بھی نماز باجماعت ادا کی جائے تواس سے وقف تام ہوجاتاہے شرعی لحاظ سےاس طرح موقوفہ زمین کو دوسرے مصرف میں استعمال نہیں کیاجاسکتا۔تاہم اگر موقوفہ زمین میں ابھی تک ایک مرتبہ بھی نماز باجماعت ادا نہ ہوئی ہو تو وقف تام نہیں ہوا،لہذا ایسی زمین پر واقف کی اجازت سے نچلی منزل میں مسجد کے مصالح کے لیے دکانیں بنانے کی شرعاً گنجائش پائی جاتی ہے۔صورت مسئولہ میں جو زمین مسجد کےلیے وقف ہوئی ہے اگر اس زمین پر ایک مرتبہ بھی نماز باجماعت نہ پڑھی گئی ہو تو ایسی زمین پر نچلی منزل میں مسجد کے مصالح کےلیے دکانیں بنانے کی  شرعا    گنجائش پائی جاتی ہے۔

(وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه )ای المسجد(جاز)کمسجدالقدس.وقال ابن عابدين تحته: حاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى:" وأن المساجد لله" بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد فهو كسرداب بيت المقدس.(الدر المختار مع رد المختار ،كتاب الوقف ،مطلب فى أحكام المسجد543/8) 

و(بقوله جعلته مسجدا)عندالثانى(وشرط محمد والإمام(أبوحنيفة)الصلاة فيه بجماعة.وقال ابن عابدين تحته:واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد ولذا شرط أن تكون جهرا بأذان وإقامة وإلا لم يصر مسجدا.(الدرالمختارمع رد المختاركتاب الوقف،مطلب فى أحكام المسجد545/8)

ولو جعل العلو مسجدا والسفل وقفا علی المسجد وأخرجه من يده يجوز ،وكذلك لو جعل السفل مسجدا للناس أوسردابا وقفا على ذلك وأخرجه من يده يصح ؛لأنه لله تعالى.(التاتارخانيةكتاب الوقف ،الفصل 21 ،مسائل وقف المسجد 162/8)


فتویٰ نمبر : 4478/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں