بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

لاعلمی میں منکوحۃ الغیر سے نکاح کی صورت میں مہر،نان نفقہاور ثبوت نسب کے احکام


سوال

کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی منکوحہ عورت نے خود کو غیر منکوحہ ظاہر کرکے دوسرے شخص سے نکاح کیا،اس دوسرے شخص سے اس کا ایک بچہ بھی پیدا ہوا ،اس کے بعد اس کو پتہ چلا کہ یہ تو غیر کی منکوحہ ہے،تواس نے اسے چھوڑ کر جدائی اختیار کرلی، اب وہ عورت مہر(جو اس نکاح ثانی میں مقررہواتھا) اور نان نفقہ کا مطالبہ کرتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ: (1) غیر کی منکوحہ کے ساتھ لاعلمی میں کیا گیانکاح کیاحکم رکھتاہے؟ (2) دوسرے شوہر سے جوبچہ پیدا ہواہے وہ ثابت النسب ہوگا یا نہیں؟ (3) کیااس عورت کامہر اور نان نفقہ کامطالبہ درست ہے یانہیں؟ (4) اب اس عورت کو جداکرنے کے لیے طلاق وغیرہ کے الفاظ ضروری ہے ،پہلے نکاح کاعلم ہوجانے پر وہ خود بخود جدا ہوچکی ہے؟

جواب

شریعت کی رو  سے کسی دوسرے شخص کی منکوحہ عورت کے ساتھ نکاح کرناناجائز اور حرام ہے،اگرلاعلمی میں کوئی شخص ایسا نکاح کرے تو اس کا یہ نکاح فاسد ہوگا، اورنکاح فاسد  کاحکم یہ ہے کہ وہ واجب الفسخ ہوتاہے یعنی زوجین پر فی الفور ایک دوسرے سے جدائی اختیار  کرناواجب ہوتاہے، اورشوہر پرلازم ہے کہ وہ زبان سے متارکت کے الفاظ بول کر بیوی سے جدائی اختیار کرلے البتہ اس نکاح  سے شوہر کے ذمے مہر واجب ہوتا ہے ،مگر مہر وہی واجب ہوگا جو مہرمثل)جومہر اس کے خاندان میں اس جیسی دوسری عورتوں کاہو)اور مہرمسمیٰ(نکاح کے وقت جو مہر مقررکیاگیاہو) میں  سے  کم ہو ، تاہم نکاح فاسد سے بیوی کانان نفقہ شوہر کے ذمے لازم نہیں ہوتا۔اسی طرح نکاح فاسد میں بیوی سے  جو اولاد پیدا ہوجائے  توتحفظ نسب کی خاطر وہ شرعاًاسی شوہر سے ثابت النسب ہوتی ہے۔

"لَا يَجُوزُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ زَوْجَةَ غَيْرِهِ وَكَذَلِكَ الْمُعْتَدَّةُ وَلَوْ تَزَوَّجَ بِمَنْكُوحَةِ الْغَيْرِ وهو لَا يَعْلَمُأنها مَنْكُوحَةُ الْغَيْرِ فَوَطِئَهَا تَجِبُ الْعِدَّةُ وَإِنْ كان يَعْلَمُ أنها مَنْكُوحَةُ الْغَيْرِ لَا تَجِبُ حتى لَا يَحْرُمَ على الزَّوْجِ وَطْؤُهَا"۔(الهندية،كتاب النكاح،في بيان المحرمات،ج1ص346)

"قوله ( نكاحا فاسدا ) هي المنكوحة بغير شهود ونكاح امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة"۔(ردالمحتار،مطلب في النكاح الفاسد،ج3ص516)"

قولہ( في نكاح فاسد ) وحكم الدخول في النكاح الموقوف كالدخول في الفاسد فيسقط الحد ويثبت النسب ويجب الأقل من المسمى ومن مهر المثل"(ردالمحتار،مطلب في النكاح الفاسد،ج4ص274)

"لأن الطلاق لا يتحقق في النكاح الفاسد بل هو متاركة۔۔۔في البزازية المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة"(ردالمحتار،مطلب في النكاح الفاسد،ج4ص276)

"وَلَا نَفَقَةَ في النِّكَاحِ الْفَاسِدِ وَلَا في الْعِدَّةِ منه"۔ (الهندية،النفقات ،ج1ص597)


فتویٰ نمبر : 6163/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں