بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ میں قربانی کی کھال دینا اور اس کو فروخت کرکے رقم طلبہ پر خرچ کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل سوالات کے متعلق 1) قربانی کی کھالیں مدرسہ (غیر رہائشی طلباء اور لنگر بھی نہ ہو) کو دینا جائز ہے یا نہیں؟ 2) قربانی کی کھالیں فروخت کر کے اس کی قیمت سے اساتذہ کرام کو تنخواہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ 3) قربانی کی کھالیں جمع کر کے فروخت کریں تو اس کی قیمت کی تملیک کرنا ضروری ہے کہ نہیں؟ 4) اگر تملیک کرنا ضروری ہے تو یہ حیلہ ہے تو کیا یہ حیلہ جائز ہے اور اس طرح حیلہ کرنا دھوکہ شمار ہوگا یا نہیں؟ 5) کیا مدرسہ مذکورہ کو قربانی کی کھالیں دینے والے لوگ گناہ گار ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی کرنے والے کو قربانی کی کھال فروخت کرنے سے قبل تین قسم کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں ذاتی استعمال میں لانا،ھبہ کرنا،صدقہ کرنا تاہم اگر قربانی کی کھال فروخت کردی جائے  تو اس کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہوتا ہےاور اس قیمت کا مصرف زکوۃ ہی کا مصرف ہےہوگا  اور چونکہ زکوۃ میں تملیک بلا عوض شرط ہے لہذا اس کی قیمت بلا تملیک اجرت میں دینا یا تعمیراتی کام میں لگانا درست نہ ہوگا۔

(1)قربانی کی کھالوں کی قیمت کا مصرف مستحق زکوۃ افراد ہیں مستحق زکوۃ ہونے کے لیے مدرسہ میں قیام وطعام کا ہونا ضروری نہیں اصل بنیاد طلباء کا مستحق ہونا ہے اگر کسی مدرسہ میں مستحق طلباء موجود ہوں اور ان طلباء کو قربانی کی کھالوں کی قیمت تملیکا دی جاتی ہوتو ایسے مدارس کو قربانی کی کھالیں دینا جائز ہے۔

(2)قربانی کی کھالیں فروخت کر کے اس کی قیمت سے اساتذہ کرام کی تنخواہوں کی ادائیگی درست نہیں الا یہ کہ شدید ضرورت ہو تو ایسی صورت قیمت میں حیلہ تملیک کر کے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کی جا سکتی ہے البتہ اگر اساتذہ کرام زکوۃ و صدقات واجبہ کے مصرف ہوں تو پھر اجرت کے بغیر ان کو    دینا درست ہوگا۔

(3)قربانی کی کھالوں کی قیمت کا مصرف چونکہ زکوۃ ہی کا مصرف ہے اور زکوۃ میں کسی مستحق کو بلا عوض مالک بنانا ضروری ہوتا ہے لہٰذا قربانی کی کھالوں کی قیمت میں بھی  کسی مستحق زکوۃ کو بلا عوض مالک بنانا ضروری ہے۔

(4)بلا ضرورت شدیدہ  حیلہ تملیک کرنا مکروہ ہے اور اگر شدید ضرورت ہو تو تملیک کی حقیقت  اور شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے حیلہ تملیک کرنا جائز ہے۔

(5)مدرسہ مذکورہ کو قربانی کی کھالیں دینے سے لوگ گناہ گار نہیں ہوں گے اور نہ ہی اس سے ان کی قربانی پر کوئی اثر  پڑے گا  البتہ ادارے کے منتظم کے لیے ضروری ہے کہ قربانی کی کھالوں کی قیمت مستحق  زکوۃ لوگوں پر خرچ کرے  بلا تملیک مسجد یا مدرسہ کی تعمیر میں اس رقم کا استعمال جائز نہیں۔

ویجوز الانتفاع  بجلد الاضحیة  والهدي والمتعة بان يتخذه فروااوبساطااو جرابا او غربالا وله ان يشتري به متاع البيت كالغربال والجراب۔۔۔۔۔ ولا باس ببيعه بالدراهم ليتصدقها  وليس له ان يبيعه بالدراهم لينفقها علی نفسه ولو فعل ذالك يتصدق بثمنه۔  (خلاصة الفتاوی،كتاب الاضحية، الفصل السادس،الجلد الرابع،رقم الصفحۃ321)

ولا ان يعطي اجرالجزار والذابح منها۔ (الفتاوی الهنديۃ،الجلد الخامس،الباب السادس،رقم الصفحه300)

ان كل حيلة يحتال بها الرجل لابطال حق الغير او لادخال شبهة فيه او لتمويه باطل، فهي مكروهة وكل حيلة يحتال بهاالرجل ليتخلص بها عن حرام او ليتوصل بها  الی حلال فهي حسنة۔    (الفتاوی الهنديۃ،الجلد السادس،رقم الصفحه 390،مكتبۃ دارالفكر بيروت)


فتویٰ نمبر : 8700/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں