بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

سسرال سے شکایات پرعورت کاوالد کے گھربیٹھ جانا


سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! انتہائی معزز اور محترم مفتی صاحب میں ایک ریٹائرڈ فوجی افسر ہوں میری عمر 63 سال ہے میری دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کی شادی ہوگئی ہے اور ایک بیٹے کی عنقریب ہونے لگی ہے میرے بچوں نے اعلی درجے کی تعلیم اور تربیت دینی اور دنیاوی بھی حاصل کی ہے انگریزی اسکولوں میں پڑھے ہیں اور مدرسے سے بچیوں نے علم بھی حاصل کیا ہے ایک افسر کی اولاد ہونے کی وجہ سے بچوں نے ایک خوشگوار بچپن گزارا ہے بڑا گھر گاڑی اور کام کرنے والے ملازمین اس کے باوجود گھر اور مدرسے سے بچوں کی تربیت کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے کہ جب یہ اپنا گھر سنبھالیں تو کوئی پریشانی نہ ہو میری چھوٹی بیٹی کا رشتہ میری زوجہ کے دور کے رشتے داروں کے گھر طے پایا آج سے تین سال پہلے اس کی ساس نے ہمیں سبز باغ دکھائے کہ میرا بیٹا بہت دیندار اور سمجھدار ہے ہمارے گھر کا ماحول دینی ہے ہم شرعی پردہ کرتے  ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے دینی اعتبار سے جو باتیں ضروری تھیں ان کی تحقیق بھی کی اور بظاہر سب کچھ مناسب لگا مگر شادی کے تھوڑے ہی عرصے میں ہمیں معلوم ہو گیا کہ انہوں  نے ہمیں دھوکے میں رکھا لڑکے کے معاش کے بارے میں جھوٹ بولا اپنے دینی ماحول اور شرعی پردے کے بارے میں جھوٹ بولا اور لڑکے کے بھی دیندار ہونے کا جھوٹ بولا میرا داماد اور بیٹی فیصل آباد میں رہتے ہیں اور بیٹی کے سسرال راولپنڈی میں ہوتے ہیں ہر چھوٹی عید پر سسرال والے فیصل آباد عید منانے جاتے ہیں اور فیصل آباد والے گھر میں دو کمرے ہیں صحن ہیں اور ٹی وی لاؤنج ہے ایک کمرے میں اے سی لگا ہوا ہے تین سال ہو گئے ہیں ہر سال بیٹی کی ساس میری بیٹی کو مجبور کرتے ہیں کہ تم نے اسی اے سی والے کمرے میں 3 دیوروں سسر ساس اور شوہر کے ساتھ سونا ہے میری بیٹی کا چھوٹا دودھ پیتا بچہ تھا اس وقت بھی ان نے مجبور کیا اور زبردستی اس کو سلایا اور کہیں سے فتویٰ بھی لے کر آئیں کہ اس طرح سونا جائز ہے میری بیٹی نے بہت ادب اور پیار سے ان کو سمجھایا کہ آپ سب مہمان ہیں اے سی کمرہ میں سو جائیں میں دوسرے کمرے میں سو جاتی ہوں لیکن وہ نہیں مانتے میری بیٹی جو کہ دینی مدرسہ سے علم حاصل کی ہوئی ہے اس کے لیے بہت مشکل ہے ایک ہی کمرے میں دیوروں کے ساتھ سونا۔ میں نے پہلے سال بیٹی کے سسر کو بہت احترام سے یہ بات سمجھائی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا اس سے اگلے سال داماد کو پیار سے علیحدگی میں سمجھایا اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا اس کے ساتھ میں نے سسر اور داماد کو کھلی اجازت دی کہ میری بیٹی سے اگر آپ کو کوئی تکلیف ہو یا مسئلہ ہو اور یہ نہ مانے تو آپ مجھے ضرور بتائیں تاکہ میں خود سمجھاؤں۔ وہ ہر دفعہ میری بیٹی کی تعریف کرتے رہے کہ یہ بہت اچھی سلیقہ شعار اور عمل والی ہے اس سال عید پر دوبارہ انہوں نے ایک کمرے میں سلانے پر مجبور کیا اس کے ساتھ ساتھ اس کی ساس راولپنڈی میں رہتے ہوئے فیصل آباد میں ان کے گھر میں فون کے ذریعے اتنی مداخلت کرتی ہے کہ سالن بستر کی چادر اور ہر ہر چیز میں میں اس کی ساس کا دخل ہوتا ہے پھر وہ میری بیٹی کو اتنے برے برے طعنے دیتی ہے کہ میں زبان پر لانا مناسب نہیں سمجھتا اب میرے داماد کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی ماں کی زیادتی سے اپنی بیوی کو بچاتا مگر وہ بالکل نہیں سمجھتا اس تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس سال میں اپنی بیٹی کو واپس اپنے گھر اچھے اور احسن طریقے سے بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے لے آیا ہوں تاکہ میرے داماد اور اس کی ماں کو کچھ سوچنے کا وقت ملے اور اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے آئندہ ایسا نہ کریں اب سوال یہ ہے کہ۔ 1.کیا میرا یہ قدم کہ بیٹی کو واپس لے آنا تاکہ اس وقفے میں میری بیٹی کے سسرال والوں کو کچھ سمجھنے کا موقع ملے تو کیا یہ شرعی اِعتبار سے ٹھیک ہے 2.کیا اب میرے اور میری بیٹی کے سسرال والوں میں سے ایک ایک حاکم مقرر ہو جو شرعی شرائط مقرر کریں جو بین الزوجین ضرور ی ہیں کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے ۔۔ 3. اگر وہ پھر بھی ان شرائط پر عمل نہ کریں تو ہمارا کیا رویہ ان کے ساتھ ہونا چاہیے؟

جواب

مرداورعورت کےمابین ازدواجی رشتے کےبندھن پر اقوام اور معاشرے کابقا موقوف ہے۔اسی لئے شریعت نے ممکنہ حدتک اس تعلق کو استوار رکھنے کاحکم دیاہے۔اگر کہیں میاں بیوی کے درمیان چپقلش پیدا ہوجائے توقرآنی تعلیمات کی روسے  پہلے توزوجین ہی کومعاملہ سدھارنے کی کوشش کرنی چاہئے،یعنی جس فریق کو شکایت ہو وہ خود دوسرے فریق کو سمجھانے کی کوشش کرے اگر اس کی تگ ودو نتیجہ خیز ثابت نہ ہورہی ہوتو دوسرامرحلہ پنچائیت کا ہےکہ جانبین کے خاندانوں میں سے چند سنجیدہ،دینداراوردیانت دار افراد کی پنچائیت بنائی جائے،تاکہ افھام وتفھیم کے  ذریعے پنچائیت جانبین کی کشیدگی کوختم کرکے پیارومحبت کی فضا قائم کردے۔اور اگر خدانخواستہ صورتحال اتنی کشیدگی اختیار کرچکی ہو کہ پنچائیت کی منت سماجت  اور کوششیں بھی بارآور نہ ہوں،توایسے میں مجبوراً عدالت کی طرف رجوع کیاجائے گا تاکہ عدالت کے ذریعے حقدار کواس کاحق دلوایاجاسکے۔

          صورت مسؤلہ میں اگر واقعی آپ کی دختر کو کسی موقع پر سسر،ساس اوردیوروں کے ساتھ ایک کمرے میں سونے پر مجبور کیاگیاہے تو  یہ سلوک یقیناً ناجائز ہے ،کیونکہ شوہر پر بیوی کایہ حق ہے کہ وہ اسے رہائش کے واسطے ایک ایسا کمرہ مہیا کردے جس میں کسی اور کی مداخلت نہ ہو۔تاہم اگرآپ کی بیٹی کورہائش کے لیے مستقل کمرہ مل گیاہے البتہ چند مخصوص دنوں میں اسے اس آزمائش کا سامنا کرنا پڑتاہے  تو یہ اگر چہ درست سلوک نہیں لیکن اس بات پر رشتہ اجاڑنا حکمت وبصیرت کاتقاضا نہیں۔ہمارے معاشرے میں ساس اور بہو کے درمیان یہ اتارچڑھاؤ عموماًہر گھر میں ہوا کرتا ہے ایسے میں مرد حضرات کوچاہیے کہ وہ خواتین کے جذباتی فیصلوں کاساتھ دینے کی بجائے دوراندیشی  سے کام لے کرانہیں سمجھایاکریں ۔ورنہ آئے دن کئی خاندانوں کااجڑجانا کوئی بعید نہیں۔ایک سن رسیدہ اور تجربہ کار شخصیت کی حیثیت سے سائل کی  ذمہ داری بنتی ہے کہ بیٹی کوصبروبرداشت کی تلقین کرے اور خود پیار ومحبت سے داماد اور اس کے گھر والوں کو سمجھا دے ۔اورانہیں سمجھانے کے عمل سےکبھی مایوسی یااکتاہٹ کا شکارنہ ہو ۔بصورت دیگراگر وہ  بالکل ماننے کو تیار نہیں ہوتے تو پھر جانبین میں سےچند سنجیدہ،دیانت داراور دیندار افراد کی ایک پنچائیت بنائی  جائے  اور اس کے ذریعے معاملے کوسدھارنے کی کوشش کی جائے۔

 "وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا"۔ (النساء35)

"( وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله ) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها ) ولو ولدها من غيره بقدر حالهما كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق۔۔۔وفي البحر عن الخانية يشترط أن لا يكون في الدار أحدمن أحماء الزوج۔وقال ابن عابدین: وليس للزوج أن يسكن امرأته وأمه في بيت واحد۔۔۔وذكر الخصاف أن لها أن تقول لا أسكن مع والديك وأقربائك في الدار فأفرد لي دارا"۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،مطلب فی مسکن الزوجۃ،ج5ص319)

"قَوْلُهُ ( والسكنى في بَيْتِ حال عن أَهْلِهِ وَأَهْلِهَا )۔۔۔ وإذا وَجَبَتْ حَقًّا لها ليس له أَنْ يُشْرِكَ غَيْرَهَا فيه لِأَنَّهَا تَتَضَرَّرُ بِهِ" ۔ (البحرالرائق،باب النفقۃ،ج4ص328)


فتویٰ نمبر : 6169/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں