بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
مشت زنی کا حکم
سوال
اگر زنا کا خوف ہو تو کیامشت زنی کی جا سکتی ہے؟مشت زنی کب جائز ہے اور مرد وعورت دونوں کے متعلق حکم کی وضاحت فرمائیں۔شادی شدہ وغیر شادی شدہ کے حکم میں کوئی فرق ہو تو وہ بھی بتا دیں ،اگر یہ عمل مکروہ ہے تو کونسا مکروہ ہے؟
جواب
واضح رہے کہ استمناء بالید(مشت زنی)اللہ جل شانہ کی عطاکردہ جسمانی قوت کو غیر محل میں خرچ کرنے کی وجہ سے ظلم کے مترادف ہے اس لیے احادیث مبارکہ میں اس کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
لہذا صورت مسؤلہ میں:(1)اگر کوئی شخص (مرد ہو یا عورت ،شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ)لذت حاصل کرنے کی خاطر خودمشت زنی کرتا ہو تو اس کیلئے اس فعل کا ارتکاب مکروہ تحریمی ہے تا ہم اگر کوئی شخص شہوت سے اتنا مغلوب ہو جائےکہ بغیر مشت زنی کے زنا میں پڑنے کا قوی اندیشہ ہو تو زنا چونکہ اس سے بڑا جرم اور گناہ ہے اس لیے زنا سے بچنے کی خاطر ایسے وقت میں مشت زنی کرنے والے کے متعلق امید کی جا سکتی ہے کہ اس پر اس کا مؤاخذہ(پکڑ) نہ ہو۔
(2)اور اگر شوہر اپنی بیوی سےیہ خلاف فطرت فعل کروائے تب بھی مکروہ تنزیہی سے خالی نہیں جس سے اجتناب کرنا بہتر ہے ،اس لیے کہ اس سے بری عادتیں واخلاقی بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔
قال القرطبيؒ تحت قوله تعالى:{أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ} هذا يقتضي تحريم الزنى وما قلناه من الاستمناء۔(الجامع لاحكام القرآن :سورة المؤمنون:6 ۔ج6ص106 )
الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث ناكح اليد ملعون ولو خاف الزنا يرجى أن لا وبال عليه۔ وقال ابن عابدین تحتہ ويجوز أن يستمني زوجته وخادمته وسيذكر الشارح في الحدود عن الجوهرة أنه يكره ولعل المراد به كراهة التنزيه(رد المحتار مع الدر المختار،كتاب الصوم: ج3ص371)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں