بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
شعبان اور رمضان کی تعطیلات میں تنخواہ کا حکم
سوال
بعد سلام مسنون عرض یہ ہے کہ چند سوالات کے قرآن وسنت کی روشنی مین جوابات عنایت فرمائیں 1) گزشتہ سال رجب کے مہینہ میں آنے والے نئے تدریسی سال کے لیے مدرسین حضرات کے ساتھ درسی سال کا عقد کیا نیا تدریسی سال شوال سے شروع ہوتا ہے اور رجب میں ختم ہوتا ہے اور جو مدرسین حضرات دوسرے مدرسہ سے آتے ہیں وہ گزشتہ سال کے شعبان ورمضان کی تنخواہوں کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا شریعت میں یہ تنخواہ لینا جائز ہے؟ 2) وہ مدرسین حضرات جو دوسرے مدرسہ سے مستعفی ہو چکے ہیں یا گھر سے آتے ہیں شعبان و رمضان کی تنخواہوں میں ان کا کیا حکم ہے؟ 3) جن مدرسین کے ساتھ درسی سال کا عقد ہوچکا ہے سال ختم ہونے کے بعد دوسرے مدرسہ میں جاتے ہیں یا ویسے ہی مستعفی ہوجاتے ہیں وہ بھی جاتے وقت یا مستعفی ہوتے وقت شعبان ورمضان کی تنخواہوں کا مطالبہ کرتے ہیں جو تعطیل کے مہینے ہیں تو تعطیل کے مہینوں کی تنخواہ کا کیا حکم ہے؟ 4) جنمدرسین کے ساتھ درسی سال کا عقد ہوچکا ہے اور وہ سال کے آخر میں دوسری طرف نہیں جاتے بلکہ آئندہ سال بھی اسی مدرسہ مین مدرس ہوں گے تو تعطیل کے مہینوں میں ان کی تنخواہ کا کیا حکم ہے؟
جواب
فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق اگر عقد اجارہ میں ابتدائی مدت کی تعیین کی گئی ہو تو اس متعین مدت سے اجرت کا حساب شروع ہوگا اور اگر عقد میںابتدائی مدت کی کوئی تعیین نہ ہوئی ہو تو پھر وقتِ عقد کو ابتدائی مدت شمار کیا جائے گایاپھر عرف کے مطابق وقت اجارہ کے ابتدا کی تعیین کی جائے گی لہذا صورت مسئولہ میں۔۔۔۔۔۔
(1)رجب کے مہینہ میں جن اساتذہ کرام کے ساتھ نئے تدریسی سال کا معاہدہ ہوجائے اور ان اساتذہ کرام نے شعبان اور رمضان کے مہینوں میں کوئی درس نہ دیا ہو بلکہ معمول کے مطابق تعطیلات پر ہوں تو وہ اساتذہ کرام شوال سے تنخواہ کے مستحق ہوں گے کیونکہ مدارس دینیہ میں نئے سال کی ابتداء شوال ہی سے ہوتی ہے لہذاا ن اساتذہ کرام کا گزشتہ سال کے شعبان ورمضان کے مہینوں کی تنخواہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ْ۔
(2)وہ اساتذہ کرام جو دوسرے مدارس سے مستعفی ہو کر یا کسی دوسری جگہ سے آتے ہیں اور ان کے ساتھ بھی نئے تدریسی سال کا معاہدہ ہوتا ہے وہ اساتذہ کرام بھی شوال ہی سے تنخواہ کے مستحق ہوں گے ۔ گزشتہ سال کے شعبان اور رمضان کے مہینوں کی تنخواہ ان کے لئے جائز نہیں ۔
(3)جن مدرسین کے ساتھ درسی سال کا عقد ہو چکا ہو اگر وہ شعبان یا رمضان سے قبل مستعفی ہو جائیں تو وہ ان دو ماہ کی تنخواہ کاحق نہیں رکھتے اور اگر رمضان کے بعد استعفی پیش کریں تو پھر وہ شعبان اور رمضان کی تنخواہوں کے مستحق ہو ں گے ۔
(4)جن مدرسین کے ساتھ درسی سال کا معاہدہ ہو چکا ہو اور اسی مدرسے میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہوں تو ان کی شعبان اور رمضان کی تنخواہ مدرسے کے ضابطے کے مطابق ہوگی اگر تو سال کا معاہدہ کرتے ہوئے یہ بات طے ہوئی ہو کہ شعبان اور رمضان کی تنخواہ نہیں دی جائے گی تو پھر وہ شعبان اور رمضان کے مہینوں کی تنخواہ کے مستحق نہ ہو ں گے اور اگر معاہدہ میں یہ تصریح ہو ئی ہو کہ بشمول شعبان و رمضان سال متصور ہوگا یا پھر کسی قسم کی تصریح نہ ہوئی ہو تو مدارس کے عام عرف کے مطابق وہ اساتذہ کرام شعبان اور رمضان کے مہینوں کی تنخواہوں کے مستحق ہوں گے ۔
يَصِحُّ الْعَقْدُ على مُدَّةٍ مَعْلُومَةٍ أَيَّ مُدَّةٍ كانت قَصُرَتْ الْمُدَّةُ كَالْيَوْمِ وَنَحْوِهِ أو طَالَتْ كَالسِّنِينَ كَذَا في الْمُضْمَرَاتِ وَيُعْتَبَرُ ابْتِدَاءُ الْمُدَّةِ مِمَّا سَمَّى وَإِنْ لم يُسَمِّ شيئا فَهُوَ من الْوَقْتِ الذي اسْتَأْجَرَهَا۔ّ(الفتاوي الهنديه،جلد4،صفحه 415)
وَمِنْهَا الْبَطَالَةُ فِي الْمَدَارِسِ،كَأَيَّامِ الْأَعْيَادِ وَيَوْمِ عَاشُورَاءَ ، وَشَهْرِ رَمَضَانَ فِي دَرْسِ الْفِقْهِ لَمْ أَرَهَا صَرِيحَةً فِي كَلَامِهِمْ .وَالْمَسْأَلَةُ عَلَى وَجْهَيْنِ: فَإِنْ كَانَتْ مَشْرُوطَةً لَمْ يَسْقُطْ مِنْ الْمَعْلُومِ شَيْءٌ ، وَإِلَّا فَيَنْبَغِي أَنْ يَلْحَقَ بِبَطَالَةِ الْقَاضِي ، وَقَدْ اخْتَلَفُوا فِي أَخْذِ الْقَاضِي مَا رُتِّبَ لَهُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي يَوْمِ بَطَالَتِهِ ، فَقَالَ فِي الْمُحِيطِ : إنَّهُ يَأْخُذُ فِي يَوْمِ الْبَطَالَةِ ؛ لِأَنَّهُ يَسْتَرِيحُ لِلْيَوْمِ الثَّانِي.وَقِيلَ : لَا يَأْخُذُ ( انْتَهَى ) .وَفِي الْمُنْيَةِ : الْقَاضِي يَسْتَحِقُّ الْكِفَايَةَ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي يَوْمِ الْبَطَالَةِ فِي الْأَصَحِّ ، وَاخْتَارَهُ فِي مَنْظُومَةِ ابْنِ وَهْبَانَ ، وَقَالَ : إنَّهُ الْأَظْهَرُ فَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ كَذَلِكَ فِي الْمَدَارِسِ ؛ لِأَنَّ يَوْمَ الْبَطَالَةِ لِلِاسْتِرَاحَةِ۔
(الاشباه والنظائرلابن نجيم، المبحث الثاني،القاعدةالسادسةالعادةمحكمة،جلد1،صفحه 96)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں