بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

مقامی لوگوں کے روزوں کےحساب سے اعتکاف کاحکم


سوال

زید کاتعلق خیبر پختونخواہ کے علاقہ حسن خیل سے ہے اس سال 2020ء کے ماہ رمضان میں اس طرح ہوا کہ زید کراچی میں تھا اور روزہ خیبر پختونخواۃ والوں کے ساتھ 24 اپریل کورکھا جو کہ کراچی والوں سے ایک دن پہلے تھا۔رمضان کے درمیان میں زید اپنے علاقہ حسن خیل آگیا علاقہ حسن خیل کے اکثر لوگوں کاروزہ مرکزی کمیٹی کے ساتھ تھا۔توزید نے یہاں مرکزی کمیٹی کے حساب سے دوسرے لوگوں کے ساتھ اعتکاف شروع کیا توایسی صورت مین زید کاسنت اعتکاف درست ہے کہ نہیں؟ حالاں کہ زید کے روزے تیس رہے اوراعتکاف نودن۔

جواب

کوئی شخص جس علاقے میں موجود ہوتواس پر روزہ وعید میں وہیں کی رؤیت اور اعلان پر عمل کرنالازم ہوگا۔ صورت مسؤلہ میں جب زید کراچی سے حسن خیل آگیا اور علاقہ حسن خیل والوں نے مرکزی کمیٹی کے حساب سے روزہ رکھا تھا توزید کے لیے بھی ضروری تھا کہ وہ وہاں کے لوگوں کے ساتھ مرکزی کمیٹی کے حساب سے اپنے روزے  پورے کرتا اور ان کے ساتھ عید مناتا ۔ لہٰذا جب اس نے وہاں کے لوگوں کے ساتھ ان کے حساب کے مطابق بیسویں رمضان کے غروب شمس سے اپنا اعتکاف شروع کیا تواس کا یہ اعتکاف مسنون اعتکاف شمار ہوگا، اگر چہ دس دن پورے نہ ہوں۔

"عن أبي هريرة رضى الله عنه قال  قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : صومكم يوم تصومون وفطركم يوم تفطرون" (سنن الترمذي ج1 ص 88)

"لوصام رائي هلال رمضان وأكمل العدة لم يفطر إلا مع الإمام  لقوله عليه السلام صومكم يوم تصومون وفطركم يوم تفطرون"(ردالمحتار،كتاب الصوم ،ج3ص351)


فتویٰ نمبر : 8692/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں