بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

دوران نماز ٹوپی گرجائےتواس کو اٹھا کر پہننا


سوال

 اگر کسی شخص سے نماز کے دوران ٹوپی گرجائے تووہ کیا کرے گا۔نماز کے دوران ٹوپی اٹھا کر پہنے گا یا ننگے سر نماز پوری کرے گا؟وضاحت فرمائیں۔

جواب

           واضح رہے کہ ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا سنت ہے اور  بلاعذر ٹوپی کے بغیر نماز پڑھنے سے ثواب  میں کمی ہوتی ہے۔

           صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص سے نماز کےدوران سر سے ٹوپی گر جائے اور وہ قیام یا رکوع میں ہو تو نیچے جھک کر ٹوپی اٹھانا عمل کثیر ہے،جس سے نماز فاسد ہوتی ہے۔اس لئے  ٹوپی اٹھانے کے لیے نہیں جھکے گا۔البتہ اگر سجدہ یا قعدہ کی حالت میں ہو اورعمل قلیل کے ساتھ ایک ہاتھ سے ٹوپی پہنےتو یہ جائز ہے۔

 

" (وَ) يُفْسِدُهَا (كُلُّ عَمَلٍ كَثِيرٍ) لَيْسَ مِنْ أَعْمَالِهَا وَلَا لِإِصْلَاحِهَاالقول الثاني أن ما يعمل عادة باليدين كثير وإن عمل بواحدة كالتعميم وشد السراويل وما عمل بواحدة قليل وإن عمل بهما كحل السراويل ولبس القلنسوة ونزعها إلا إذا تكرر ثلاثا متوالية وضعفه في البحر بأنه قاصر عن إفادة ما لا يعمل باليد كالمضغ والتقبيل. الثالث الحركات الثلاث المتوالية كثير وإلا فقليل"(رد المحتارعلی الدرالمختار، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:2، ص:384، دارالکتب العلمیة)

(وَصَلَاتُهُ حَاسِرًا) أَيْ كَاشِفًا (رَأْسَهُ لِلتَّكَاسُلِ) وَلَا بَأْسَ بِهِ لِلتَّذَلُّلِ، وَأَمَّا لِلْإِهَانَةِ بِهَا فَكُفْرٌ وَلَوْ سَقَطَتْ قَلَنْسُوَتُهُ فَإِعَادَتُهَا أَفْضَلُ إلَّا إذَا احْتَاجَتْ لِتَكْوِيرٍ أَوْ عَمَلٍ كَثِيرٍ"(الدرالمختارشرح تنویرالأبصار، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:2 ، ص:408 ، دارالکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 8853/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں