بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بغیر وکالت ودلالی کے دوسرے کی اشیا فروخت کرنے پر اجرت لینا


سوال

ایک شخص آن لائن بزنس کرتا ہے اور فیس بک پر اپنے سمان کو بیجتا ہے ، اب ایک دوسری شخص اس کے اشیا کو اپننے پیج پر پوسٹ کرے لیکن اس کے قیمتوں کو چھپائے ، جب اس دوسرے شخص سے کوئی یہ چیز مانگے تو یہ دوسرا شخص اس چیز کو اصل قیمت سے زیادہ پر فروخت کرکے پہلے شخص سے رابطہ کرتا  ہے کہ فلاں چیز کی یہ قیمت لگا کر اس پتہ پر بھیج  دو، قیمت وصول ہونے کے بعد آپ اپنے پیسے لے لو اور باقی میرا منافع ہے وہ مجھے ارسال کرو ، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا شرعا اس طرح کرنا جائز ہے یانہیں ؟ اگر جائز نہیں ہے تو اصلاح کی صورت بتائیں۔

جواب

             شریعت مطہرہ میں کسی چیز کو فروخت کرتے وقت اس چیزکا ملکیت میں ہونا ضروری ہے، لہذا جو  چیز ملکیت میں نہ ہو اس کو فروخت کرنا اور اس کے ذریعے پیسے کمانا شرعا جائز نہیں، اسی طرح کسی چیز کو خرید کر اسے آگے فروخت کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پہلے اس پر قبضہ کیا جائےاگر خریدی ہوئی چیز کو قبضہ سے پہلے فروخت کیا جائے تو  شرعا یہ جائز نہ ہوگا ۔

                صورت مسٔولہ میں مذکورہ شخص چونکہ دوسرے شخص کی اشیا کو خریدنے سے پہلے فروخت کرتا ہے اس لیے ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیع ناجائز ہے۔ اگر یہ شخص پہلے خریدبھی لیتا ہے تو چونکہ ابھی تک اس نے قبضہ نہیں کیا ہے ، لہذا بیع قبل القبض ہونے کی وجہ سے یہ صورت بھی ناجائز ہے۔

جائز صورت اس کی یہ ہے کہ مذکورہ شخص پہلے شخص  سےیہ کہے کہ میں آپ کی طرف سے دلال یا وکیل بن کر آپ کی  اشیا فروخت کروں گا، آپ مجھے اتنی اجرت دیں گے، لیکن اس میں یہ ضروری ہے کہ اجرت متعین ہو، چاہے مقدار کے اعتبار سے تعیین کی جائے یا فیصد کےاعتبار سے دونوں جائز ہے۔

 

"عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ:نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدِي" (سنن الترمذي، باب ماجاء في كراهية أن أبيع ما ليس عندي، حديث: 1248)

"وفيه أن بيع ما ليس في ملكه باطل كما تقدم؛ لأنه بيع المعدوم، والمعدوم ليس بمال فينبغي أن يكون بيعه باطلا" (رد المحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:7، ص:248)

"فنقول من حكم المبيع إذا كان منقولا أن لا يجوز بيعه قبل القبض"۔(الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب الثاني فيما يرجع إلى انعقاد بيع الثاني، ج:3، ص: 16)

"وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه" ( رد المحتار على الدر المختار، باب ضمان الأجير، ج:9ص87 )

"وإنما يجب للوكيل أجر على عمله إن شرطه له ذلك صريحا أو بدلالة العرف والعادة بأن كان الوكيل ممن جرت عادتة أن يعمل بأجرة"۔(شرح المجلة لخالد الأتاسي، الباب الثالث في بيان أحكام الوكالة، المادة:1467، ج:4، ص:445)


فتویٰ نمبر : 2861/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں