بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا


سوال

نماز جنازہ کے بعد ضرورت کی بنا پر یا بغیر ضرورت کے اجتماعی دعا کرنا جائز ہے یا ناجائز ہے؟

جواب

        علماے کرام کی تصریحات کے مطابق نمازہ جنازہ کے فورا بعد  صفیں توڑنے سے پہلے  میت کے لیے دعا کرنے کا باقاعدہ اہتمام کرنا زیادۃ علی الشرع کے مترادف ہے، اس لیے  کہ نماز جنازہ خود دعا ہے۔ لہذااس  کے بعد  دوبارہ دعا کرنا  نماز جنازہ پر زیادت ہے، جب کہ صفیں توڑنے کے بعد  بغیر التزام کے دعا کرنا  مباح ہے۔ البتہ  اگر صفیں توڑنے کے بعد  دعا  کرنے کا اس طور پر التزام  کیا جائے کہ دعا نہ کرنے والوں کو ملامت اورلعن طعن کا نشا نہ بنایا جائے تو پھر یہ بدعت کے زمرے میں داخل ہو کر ناجائز ہوگی۔

        صورت مسؤلہ میں نماز جنازہ کے بعد  دعا کرنا مباح ہے۔ لیکن اس کو ضروری نہ سمجھا جائے اور نہ  ہی دعا نہ  کرنے والوں کو ملامت کیا جائے، ورنہ پھر ناجائز ہوگی۔

 

ولايدعو للميت بعد صلاةالجنازة لانه يشبه الزيادة في صلاةالجنازة۔(مرقاة المفاتيح،كتاب الجنائز،باب المشي بالجنازة والصلوة عليها،الفصل الثالث،ج:4،ص:170)

وهي أربع تكبيرات بثناء بعد الأولى وصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم بعد الثانية ودعاء بعد الثالثة وتسليمتين بعد الرابعة ) ۔۔۔وقيد بقوله بعد الثالثة لأنه لايدعوبعدالتسليم كما في الخلاصة وعن الفضلي لا بأس به۔(البحرالرئق،كتاب الجنائز،فصل السلطان أحق بصلاته،ج:2ص:320)

(البدعة )ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله  صلى الله عليه وسلم  من علم أو عمل أوحال بنوع شبهة واستحسان وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الصلوة،باب اللإمامة،مطلب:البدعةخمسةاقسام،ج:2،ص:299)


فتویٰ نمبر : 8866/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں