بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

اجرت کےعوض آن لائن قرآن پڑھانا


سوال

ایک اکیڈمی میں آن لائن کلاسوں کااہتمام کیاگیاہےاوراس کےلیےتمام ترضروریات مثلا:فرنیچر،کمپیوٹر،اےسی،اورجنریٹروغیرہ کاانتظام کیاگیاہےاوراس کااشتہار انٹرنیٹ پرچلایاجاتاہے،جس میں قاعدہ اورقرآن وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہےاوررابطہ کےبعدان سےایک خاص رقم پراتفاق ہوجاتاہے،اس کےبعداکیڈمی کا انتظامیہ اساتذہ کو ایک خاص مقدارمیں ماہانہ تنخواہ اداکرتاہے،اب دریافت طلب امریہ ہےکہ آن لائن کلاس پڑھانااور اس کےبدلےمعاوضےکامطالبہ کرناصحیح ہےیانہیں؟نیزسٹوڈنٹ سے زیادہ رقم لےکر اس سے کم تناسب کےلحاظ سےاساتذہ کومقررہ ماہانہ تنخواہ دینادرست ہےیانہیں؟

جواب

             فقہاےکرام کی تصریحات کےمطابق معلوم منفعت کےبدلےمعلوم اجرت لینااجارہ ہےجوکہ شرعاجائزہے،چنانچہ اگردویادو سےزیادہ افراد کےمابین معلوم منفعت کےبدلےمعلوم مدت تک معلوم اجرت پرمعاملہ طےہوجائےتوشرعایہ جائزہے۔

            صورت مسئولہ کےمطابق آن لائن کلاس (قاعدہ اورقرآن)پڑھانےکےبدلےمعاوضےکامطالبہ کرنا،چونکہ معلوم منفعت (تعلیم)کےبدلے اجرت لیناہے،اس لیےاگراجرت معلوم ومتعین ہوتواس کےلینےمیں شرعاکوئی حرج نہیں،کیونکہ متاخرین فقہاےکرام کےنزدیک طاعات کےبدلےاجرت لینےکی گنجائش ہے ۔

جہاں تک انتظامیۂ اکیڈمی کاسٹوڈنٹ سےزیادہ فیس وصول کرنےاوراساتذہ کواس فیس سےکم تناسب میں مقررہ ماہانہ تنخواہ دینےکا مسئلہ ہےتوچونکہ یہ دونوں علیحدہ علیحدہ عقودہیں ،یعنی اولا انتظامیہ طلبہ سےعقد طےکرتاہےکہ متعین فیس کےبدلےان کوقرآن پاک وغیرہ کی تعلیم دی جائےگی جوکہ شرعاجائزہے،پھران طلبہ کومطلوبہ تعلیم مہیاکرنےکےلیےالگ طورپراساتذہ سےعقدطےکرتاہےکہ وہ (اساتذہ)ان طلبہ کومطلوبہ تعلیم(قرآن کی تعلیم وغیرہ) مقررہ ماہانہ تنخواہ کےبدلےدیں گے اوراس عقدمیں بھی شرعاکوئی حرج نہیں ہے،اس لیے اکیڈمی کےانتظامیہ کےلیےطلبہ سے  زیادہ فیس وصول کرنااوراساتذہ کواس فیس سےکم تناسب میں مقررہ ماہانہ تنخواہ دینا شرعاجائزہے۔

 

الإجارة... في اصطلاح الفقهاء بمعنى بيع المنفعة المعلومة في مقابلة عوض معلوم.(شرح المجلة، لمحمدخالدالأتاسي، كتاب الإجارات، المقدمة، المادة:405، ص:472، المكتبة الحبيبية)

إنها نوعان: نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي والدواب والثياب وما أشبه ذلك ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك، كذا في المحيط.  (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الأول:في بيان تفسيرهاوركنها...، ج:4، ص:411، دارلفكر)

قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى.             (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:9، ص:76، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 2859/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں