بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

وطن اصلی میں تعدد


سوال

ہم لوگ وزیرستان میں دو جگہ رہنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، ایک کا نام کوٹکائی اور دوسرے کا نام بدر ہے، ہم گرمی کے موسم میں کوٹکائی آتے ہیں، اپنے فیملی کے ساتھ(5)یا(6)مہینے یہاں رہتے ہیں، اور کوٹکائی سے کبھی کبھار ہم لوگ بدر کو سیر کے لیے یا ویسے زیارت کے لیے جاتے ہیں، وہاں بدر میں ہم لوگوں کے مکان ہیں،لیکن مسمار ہیں، اور زمین باغات وغیرہ ہیں،لیکن غیر آباد ہیں۔ اب ہم جب ٹانک یا کوٹکائی سے فیملی کے بغیر بدر جاتےہیں،تو ہم قصر کریں گے یا پورا پڑھیں گے   بدر  اور کوٹکائی کے درمیان مکین کے راستے پر سو (100)  کلو میٹر فاصلہ ہے؟

جواب

               شریعت مطہرہ کی روسے کسی شخص کی پیدائش جس جگہ میں ہو جاِئے، اورو ہاں پر اس کے اہل وعیال بھی ہوں، تو وہ جگہ اس کے لیے  وطن اصلی شمار ہوگی۔اس کے بعد اگر وہ شخص اہل وعیال کے ساتھ دوسری جگہ  میں مستقل سکونت پذیر ہو بایں طور کہ اس کی معیشت وجائید اد  وغیرہ  یہاں پر ہو، لیکن اس کے وطن اصلی میں اس کی زمین،جائیداد اورمسمار گھروغیرہ موجود ہوں،اوراس نے اس کو چھوڑنے کا عزم نہ کیا ہو، تو یہ دونوں جگہیں اس کی وطن اصلی شمار ہوں گے ، اور دونوں جگہوں میں پوری نماز پڑھنے کا پابند ہوگا۔لیکن اگر  واپس  وہاں پر رہا ئش اختیار  کرنے کا کوئی عزم نہ  ہو،  تو وہ جگہ اس کے لیے وطن اصلی نہیں رہی گی،اس لیے  وہاں پر قصر نماز  پڑھے گا۔

لہذا صورت مسٔولہ میں کوٹکائی اور بدر دونوں وطن اصلی شمار ہوں گے،اور دونوں میں پوری نماز ادا کرے گا۔ بشرط یہ کہ بدر میں مسمار گھر کو بنانے اور وہاں سکونت کا عزم کیا ہو۔لیکن اگر واپس وہاں پر  رہائش اختیار کرنے کا عزم نہ ہو، تو پھر بدر میں قصر نماز پڑھےگا۔

 

( ويبطل الوطن الأصلي بمثله۔۔۔)وفي المجتبى نقل القولين فيما إذا نقل أهله ومتاعه وبقي له دور وعقار ثم قال وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر۔(البحرالرائق،كتاب الصلوة،باب المسافر،ج2ص239)


فتویٰ نمبر : 8857/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں