بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

نماز کے دوران کپڑوں پر خون کا ادراک ہوجائے تو نماز کا حکم


سوال

میں ایک لیبارٹری میں مریضوں سے مختلف ٹیسٹوں کے لیے خون لیتا ہوں،اور خون کے ٹیسٹ کے دوران کبھی کبھار یہ خون ہمارے کپڑوں کو لگتا ہے۔ جس کا ادراک کبھی ہم کو دوران نماز ہوجاتا ہے۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس خون کے ساتھ ہماری نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟وضاحت فرمائیں۔

جواب

             واضح رہے کہ صحت نماز کے شرائط میں سے ایک شرط کپڑوں کا پاک ہونا ہے۔لہذا اگر نجاست غلیظہ (خون وغیرہ)ایک درھم کی مقدار سے زیادہ کپڑوں پر موجود ہوتو اس کو دھوکر پاک کرنا ضروری ہے۔البتہ اگر نجاست غلیظہ  ایک درھم کی مقدار کے برابر یا اس سے کم ہوتو اس کےساتھ  پڑھی گئی نماز ادا ہوجاتی ہے۔ایک درھم کی مقدار مائع نجاست غلیظہ میں ہتھیلی کی گہرائی کے پھیلاؤ کے بقدرہے جو تقریباً5.94 مربع سینٹی میٹربنتا ہے۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل دوران نماز اپنے کپڑوں   پر اس قدر خون دیکھے لے جو بقدر درھم یا اس سے کم پھیلا ہو تو وہ اپنی نمازجاری رکھ سکتا ہے۔لیکن اگر خون کا پھیلاؤ درھم سے زیادہ ہو توچونکہ  خون کی اس مقدار کے ساتھ نماز جائز نہیں لہذاوہ نماز توڑکر خون کو دھوئے اور پھر دوبارہ نئے سرے سے نماز پڑھے۔

 

"النجاسة إن كانت غليظة وهي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة وإن كانت مقدار درهم فغسلها واجب والصلاة معها جائزة وإن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة وإن كانت خفيفة فإنها لا تمنع جواز الصلاة حتى تفحش. كذا في المضمرات۔" (الفتاوی الھندیة، كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة، الفصل الأول في الطهارة وستر العورة، ج:1، ص: 114، دارالفکر)

"وهي نوعان (الأول) المغلظة وعفي منها قدر الدرهم واختلفت الروايات فيه والصحيح أن يعتبر بالوزن في النجاسة المتجسدة وهو أن يكون وزنه قدر الدرهم الكبير المثقال وبالمساحة في غيرها وهو قدر عرض الكف (2) . هكذا في التبيين والكافي وأكثر الفتاوى والمثقال وزنه عشرون قيراطا وعن شمس الأئمة يعتبر في كل زمان بدرهمه والصحيح الأول. هكذا في السراج الوهاج ناقلا(والثاني المخففة) وعفي منها ما دون ربع الثوب. كذا في أكثر المتون اختلفوا في كيفية اعتبار الربع قيل المعتبر ربع طرف أصابته النجاسة كالذيل والكم والدخريص إن كان المصاب ثوبا وربع العضو المصاب كاليد والرجل إن كان بدنا وصححه صاحب التحفة والمحيط والبدائع والمجتبى والسراج الوهاج."(الفتاوی الھندیة، کتاب الطھارۃ،الباب السابع في النجاسة وأحكامها، الفصل الثاني في الأعيان النجسة، ج:1 ، ص: 100، دارالفکر)


فتویٰ نمبر : 8854/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں