بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

منگنی کے بعد سسر کے گھر جانا


سوال

 ہمارے علاقے میں مشہور ہے کہ جب منگنی ہوجائے اور ابھی تک نکاح نہ ہوئی ہو،تو داماد کے لیے سسر کے گھر جانا اور اس طرح وہاں دعوت کھانا حرام ہے،کیایہ بات شرعا درست یا نہیں ؟

جواب

              شرعی نقطہ نظر سے منگنی کی حیثیت وعدہ نکاح کی ہے۔اس سے نہ نکاح منعقد ہوتا ہے اور نہ لڑکا،لڑکی ایک دوسرے کےلیے حلال ہوتے ہیں ،بلکہ منگنی کے بعد بھی ان دونوں کے درمیان اجنبیت بدستور قائم رہتی ہے۔البتہ کسی کے گھر ملاقات یا دعوت کے لیے جانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی نہ ہو۔

             صورت مسئولہ میں اگر کہیں پر منگنی کے بعد منگیتر کے گھر جانا اور وہاں دعوت کھانا حرام  سمجھا جاتا ہو تو یہ تصور غلط ہے،بشرطیکہ شرعی پردہ کی رعایت رکھی جائے۔

 

"ولو دعي إلى دعوة فالواجب أن يجيبه إلى ذلك، وإنما يجب عليه أن يجيبه إذا لم يكن هناك معصية، ولا بدعة، وإن لم يجبه كان عاصيا والامتناع أسلم في زماننا إلا إذا علم يقينا بأنه ليس فيها بدعة، ولا معصية كذا في الينابيع." (الفتاوی الھندیة، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:333، دارالفکر)

"أَوْ هَلْ أَعْطَيْتنِيهَا إنْ الْمَجْلِسُ لِلنِّكَاحِ، وَإِنْ لِلْوَعْدِ فَوَعْدٌ؛"(تَنْوِيرِ الْأَبْصَارِ علی صدر ردالمحتار، كِتَابُ النِّكَاحِ، ج:4، ص:73، دارالکتب العلمیة )

"الْخَلْوَةُ بِالْأَجْنَبِيَّةِ حَرَامٌ (قَوْلُهُ الْخَلْوَةُ بِالْأَجْنَبِيَّةِ) أَيْ الْحُرَّةِ لِمَا عَلِمْت مِنْ الْخِلَافِ فِي الْأَمَةِ، وَقَوْلُهُ: حَرَامٌ قَالَ فِي الْقُنْيَةِ مَكْرُوهَةٌ كَرَاهَةَ تَحْرِيمٍ"(ردالمحتار علی الدرالمختار، كِتَابُ الْحَظْرِ وَالْإِبَاحَة، ج:9، ص:529، دارالکتب العلمیة) 


فتویٰ نمبر : 4739/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں