بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مورث سے پہلے فوت ہونے والے وارث کےلیے میراث کاحکم


سوال

(1)اگر بیٹا ماںکی وفات سے پہلےفوت ہوجائے  تو کیا بیٹے کو ماں کی میراث ملےگی یانہیں؟

     (2) کیا بھائی کی میراث ان بھائیوں اور بہنوں کو ملے گی  جو اس سے پہلے فوت ہوچکے ہیں؟

جواب

      شرعی نقطہ نظر سے میت کی میراث ہر اس مورث کو ملتی ہے، جو اس کی موت کی وقت زندہ موجود ہو۔

     صورت مسئولہ کے مطابق (1)اگر بیٹا ماں سے پہلے فوت ہو جائےتو اس کو ماں کا ترکہ نہیں مل سکتا

(2) اسی طرح بھائی کی وفات کے وقت جوبھائی اور بہنیں  اس سے پہلے فوت ہوئے ہیں ان کو میراث نہیں مل سکتی۔

 

بيانه إن شرط الإرث وجود الوارث عند موت المورث۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الفرائض،ج:10،ص:511)


فتویٰ نمبر : 4160/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں