بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

کرایہ دارسےاس کےتعمیرشدہ کمروں کےکرائےکامطالبہ کرنا


سوال

ایک شخص نےاپنامکان کرایہ پردیااورکرایہ کایہ طریقہ اختیارکیاکہ ہرایک کمرےکےپانچ سوروپےمقرّرکیے،اورکرایہ دارکویہ اجازت دی کہ مکان میں تم مزید کمرےبھی بناسکتےہو،لیکن معاملہ ختم کرتےوقت مالکِ مکان کواختیارہوگاکہ ان کمروں میں استعمال مٹیریل کی قیمت دے دےیا اگر اس کو ضرورت نہ تو کرایہ دار  اس عمارت کو ہٹائےگا اور مالک مکان اس سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرے گا،اب اگر کرایہ دار ان کمروں کوختم نہیں کرتا اور مالک مکان اس سےکہتا ہوکہ مجھے اس کی ضرورت نہیں،اور نہ میں اس کی قیمت ادا کر سکتا ہوں،لیکن اگر پھر بھی مجھ سےاس کی قیمت لیتے ہو تو جتنی مدت تم ان کمروں میں رہے ہو،اتنی مدت کا کرایہ مجھے دینا ہوگا،کیا مالک مکان کا یہ مطالبہ شرعا درست ہے؟

جواب

           کسی چیز کے منافع سے اجرت کے عوض فائدہ حاصل کرنےکاعقدعقدِاجارہ کہلاتا ہے۔

          صورت مسئولہ کے مطابق کرایہ دار نے مالک مکان کی اجازت سے جو کمرے تعمیر کیے ہیں ،چونکہ اب تک ان کمروں کی عمارت کا مالک کرایہ دار ہے ،اب اگر مالک مکان  یہ کمرے خریدے گاتو آئندہ کے لیے ان کی اجرت طے کرکے وصول کر سکتا ہے،لیکن گزشتہ مہینوں میں چونکہ نہ مالک مکان ان کمروں کا مالک تھا اور نہ ہی کوئی عقد ہوا تھا ،اس لیے ان کمروں کواستعمال کرنے کےگزشتہ مہینوں کی اجرت کا مطالبہ مالک مکان کے لیے جائز نہیں۔

 

أما تفسيرها شرعا فهي تمليك المنافع  بعوض ... وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا)الفتاوی الھندیہ،کتاب الإجارۃ،الباب الأوّل:فی تفسیرالإجارۃ...،ج4ص440)


فتویٰ نمبر : 2866/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں