بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ترتیب ساقط ہونے کے بعد دوبارہ صاحب ترتیب بننا


سوال

اگر کسی صاحب ترتیب سےپانچ سےزائد نمازیں فوت ہوئی ہوں ، اور اس نے ان نمازوں کی قضاءکی ہو، تو کیا وہ شخص دوبارہ صاحب ترتیب بن سکتا ہےیانہیں؟

جواب

        صاحب ترتیب وہ شخص ہوتاہے ، کہ جس سے بلوغ کے بعدچھ یاچھ سے زیادہ نمازیں فوت نہ ہوئی ہوں ، البتہ اگر کسی سے چھ یا چھ سے زیادہ نمازیں فوت ہوگئی ہوں اور پھر اس شخص نے ان تمام نمازوں کی قضامکمل کرلی ہو، توقضاسے چونکہ ذمہ فارغ ہوجاتا ہے، لہذا یہ شخص دوبارہ صاحب ترتیب متصور ہوگا، اور اس کے لیے نمازوں کی ادائیگی میں دوبارہ ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔

وقيد بقضاء البعض لأنه لو قضى الكل عاد الترتيب عند الكل كما نقله القهستاني قوله ( على المعتمد ) هو أصح الروايتين وصححه أيضا في الكافي والمحيط وفي المعراج وعليه الفتوى۔(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، باب الفوائت،ج:2،ص:529)

يسقط الترتيب بصيرورة الفوائت ستا ولو كانت متفرقة۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصلوة، باب الفوائت، مطلب في تعريف الإعادة، ج:2، ص:527)


فتویٰ نمبر : 8839/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں