بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

سودی بینک کو درست سمجھنےوالے کا حکم


سوال

اگر ایک شخص جو سودی بینک میں ملازمت کرتا ہو اور وہ اپنے بینک کے سودی ترتیب کو درست اور جائز سمجھتا ہو تو ایسے شخص کا شرعی حکم کیا ہے نیز ایسے شخص کا ہدیہ قبول کرنا، اس سے بیع و شرا  کرنا، اس کے ہاں دعوت پر جانا وغیرہ جیسے معاملات کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ کنونشنل بینک میں عموما سودی معاملات ہوتے رہتے ہیں اور اسلام میں سود کا حرام ہونا کسی سے مخفی نہیں سود کا لین دین کرنے والے کے ساتھ سودی معاملات لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے پر بھی لعنت بھیجی گئی ہے اس لیے سودی بینک کی وہ ملازمت جس میں براہ راست سودی معاملات میں تعاون ہو وہ ملازمت اور اس کی آمدنی دونوں ناجائز ہیں۔

          صورت مسئولہ میں سود کی حرمت چونکہ قرآن کریم سے ثابت ہے لہذا اگر کوئی سودکی حرمت سے انکار کرے تو یہ قرآنی آیات سے انکار متصور ہو کرکفر ہے جہاں تک سودی بینکوں سے حاصل ہونے والے منافع کا حکم ہے تو جمہور  علماء کرام کے ہاں یہ منافع سود کے حکم میں داخل ہیں لہذا یہ منافع حلال نہیں لیکن اگر کوئی شخص ان منافع کو اور اس کے حصول کی ترتیب کو سود نہ سمجھےبلکہ حلال سمجھے تو شرعا ایسا شخص گنہگار ضرور ہے لیکن یہ کفر نہیں اس کے ساتھ خرید و فروخت کے معاملات جائز ہیں جہاں تک ایسے شخص کے ہدیہ اور دعوت قبول کرنے کا مسئلہ ہے تو اگر بینک کے  منافع کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی حلال کمائی نہ ہو تو شرعا اس کا ہدیہ اور دعوت قبول کرنا جائز نہیں.

 

عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء۔)الصحیح للمسلم ، کتاب البیوع ، باب الربوا،ج:2 ،ص:1052،مکتبةالبشری(

والفسق ۔ ۔ ۔  وشرعا خروج عن طاعة الله تعالى بارتكاب كبيرة قال القهستاني أي أوإصرار على صغيرة۔(حاشية الطحطاوى على مراقي الفلاح، فصل في بيان الأحق بالإمامة،ص:245)

آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال۔)الفتاوی الھندیة ، کتاب الکراہیة، الباب الثانی عشر فی الھدایا والضیافات ، ج: 5 ، ص: 397 ، دارالفکر(


فتویٰ نمبر : 4708/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں