بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

قربانی کا جانور فروخت کرکے رقم ذاتی استعمال میں لانا


سوال

 اگر کوئی شخص  قربانی کے لیے  جانور خرید ے پھر اس جانور کو ٖفروخت کر کے دوسرا جانور خریدے جس کی قیمت پہلے جانور سے کم  ہو تو کیا وہ شخص اس بچی ہوئی رقم کو اپنے استعمال میں لا سکتا ہے؟

جواب

          اگر صاحب نصاب شخص نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو تو اس کے لئے جانور تبدیل کرنے کی گنجائش ہے کہ اس جانور کے بدلے دوسرے جانور کی قربانی کرے اور اگردوسراجانور پہلے جانور سےقیمت میں کم ہو تو شرعا صاحب نصاب شخص پر باقی ماندہ رقم کو صدقہ کرنا لازم نہیں اور اگر فقیر آدمی ایام نحر سے پہلے جانور خریدے تو اس پر اس جانور کی قربانی واجب نہیں کیونکہ  قربانی کا جانور صرف خریدنے سے واجب  نہیں ہوتا البتہ اگر اس نے زبان سے قربانی کے التزام کی  تصریح کی ہو تو پھر نذر کے حکم میں ہو کر  اس جانور کی قربانی اس پر لازم ہوتی ہے اسی طرح  اگر فقیر آدمی نے ایام نحر میں قربانی کی نیت سے جانور خریدا تو اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہوجاتی ہے اور فقیر کے لئے اس جانور کو فروخت کرنا اور تبدیل کرنا جائز نہیں تاہم اگر فقیر اسے فروخت کرے اور اس کی قیمت سے دوسرا جانور خریدے اور دوسرا جانور پہلے جانور سےکم قیمت والا ہو تو ایسی صورت میں ان دونوں کی قیمتوں میں جتنا فرق ہے اس کے بقدر پیسے صدقہ کرنا واجب ہوگاـ

 

رجل اشترى شاة للأضحية و أوجبها بلسانه، ثم اشترى الأخرى جاز له بيع الأولى في قول أبي حنيفة و محمد رحمهما الله، فإن كانت الثانية شرا من الأولى وذبح الثانية فإنه يتصدق بفضل ما بين قيمتين، لأنه لما اوجب أولى بلسانه فقد جعل مقدار مالية الأولى لله تعالى، فلا يكون له أن يستفضل لنفسه شيئا، فلهذا يلزمه التصدق بالفضل۔قال بعض مشايخنا رحمهم الله تعالى: هذا اذا كان الرجل فقيرا،فان كان غنيا فليس عليه أن يتصدق بفضل القيمة، لأن الأضحية واجبة على الغني من غير إيجاب (فتاوى قاضيخان، كتاب الأضحية، ج:3، ص:244)

وفي العناية: المختار أن الفقير لو اشتراها بنية التضحية في ايام النحر تصير التضحية واجبة في حقه وإن لم يقل بلسانه شيئا في جواب ظاهر الرواية هذا اختيار الصدر الشهيد،وعليه الفتوى(الفتاوى التاتارخانية، كتاب الأضحية،الفصل الثاني،في وجوب الأضحية بالنذر،ج:17،ص:411)

وَمِنْهَا ما يَجِبُ على الْفَقِيرِ دُونَ الْغَنِيِّ وَمِنْهَا ما يَجِبُ على الْغَنِيِّ دُونَ الْفَقِيرِ أَمَّا الذي يَجِبُ على الْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ فَالْمَنْذُورُ بِهِ بِأَنْ قال لِلَّهِ عَلَيَّ أَنْ أُضَحِّيَ شَاةً أو بدنه أو هذه الشَّاةَ أو هذه الْبَدَنَةَ أو قال جَعَلْت هذه الشَّاةَ ضَحِيَّةً أو أُضْحِيَّةً وهو غَنِيٌّ أو فَقِيرٌ لِأَنَّ هذه قُرْبَةٌ لِلَّهِ تَعَالَى عز شَأْنُهُ من جِنْسِهَا إيجَابٌ وهو هَدْيُ الْمُتْعَةِ والقرآن والاحصار۔(بدئع الصنائع،كتاب التضحية،ج:6،ص:275)


فتویٰ نمبر : 8845/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں