بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
زکوۃ کی رقم سے طلبہ کےتعلیمی اخراجات ادا کرنا
سوال
اللہ تعالی کے فضل سے عبد الولی خان یو نیورسٹی مردان کو عالمی سطح پر ایک مقام ملا ہے اور حالیہ بیرونی سروے کے مطابق پوری دنیا میں 157 نمبر پرجب کہ پاکستان میں اول پوزیشن اس نو عمر یونیورسٹی نے اپنے نام کرائی ہے۔فللہ الحمد۔ مفتی صاحب چند ہفتوں سے درج ذیل سوال میرے ذہن میں اٹھ رہا ہے امید واثق ہے کہ آپ مدلل جواب دے کر ممنون فرما ئیں گے ۔"یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں ہر سمسٹرمیں ایسے قابل مگر نادار طلباء و طا لبات داخلہ لینے کے لیے آتے ہیں مگر فیس نہ ہو نے کی وجہ سے وہ ما یوس ہو کر واپس لوٹتے ہیں اور یوں زیور تعلیم سے محروم ہو کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جا تے ہیں۔ایسے نادار اور غریب امیدواروں کے تعلیمی اخراجات کے لیے اگر پروفیسر حضرات ما ہا نہ طور پر اپنے ایک یا آدھ دن کی تنخواہ اپنی زکوۃ کی نیت سے پے آفیسر کے ساتھ جمع کرا نے پر رضا مند ہو جا ئیں تو یوں ایک خطیر رقم کے نتیجے میں سینکڑوں مستحق طلباء اور طا لبات کےتعلیمی اخراجات کو شفاف طریقے سے حل ہو جانے کے امکانات پیدا ہوں گے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ اپنا نا جا ئز اور مستحسن ہو گا؟ کیا اس طریقے سے ان پروفیسرکی ز کوۃ یا صدقہ ادا ہو جا ئے گا؟
جواب
فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق فقرا و مساکین پر زکوۃ کی جو رقم خرچ کی جائے،اس میں تملیک، یعنی مستحق زکوۃ کو مالک بنانا ضروری ہے۔ اگر زکوٰۃ کی رقم سے کسی فقیر کا دین اس کی اجازت سے ادا کر دیا جائے تو یہ بھی تملیک کی ایک صورت ہے جس سے زکوۃ ادا ہو جاتی ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق پروفیسر صاحبان کا ایک آدھ دن کی تنخواہ بنیت ِزکوۃ پے آفیسر کے پاس جمع کرنے کی صورت میں پے آفیسر ان پروفیسر صاحبان کی طرف سے زکوۃ کی ادائیگی میں وکیل بنے گا، پھرجن مستحق زکوۃطلباءکو یونیورسٹی میں داخلہ مل جاتا ہے، اور یونیورسٹی کے اخراجات ان کے ذمّے دین ہو جاتے ہیں، تو پےآفیسر كا وہ قرض ان طلباء کے طرف سے، ان کی اجازت سے، اس زکوۃ کے فنڈ سےادا کرنا جائز ہے۔ اس سے زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ گویا پے آفیسر زکوۃ دھندہ اور زکوۃ لینے والےدونوں طبقات کا نمائندہ متصور ہو گا۔ البتہ اس کے لیے ایسا منظم سسٹم بنانا ضروری ہوگا کہ اس کے ذریعے حقیقی معنوں میں مستحق زکوۃ طلباء کی تعیین ہو سکے، اور زکوۃ دینے والوں کی زکوۃ بروقت اور صحیح مصرف میں ادا ہوتی رہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سسٹم کی کمزوری کی بنا پر زکوۃ کی رقم غیر مصرف میں خرچ ہو ،یا سالہاسال تک بلا ادائیگی پڑی رہے۔ بہتر ہوگا کہ فنڈ بااعتماد افسران اور تجربہ کار مفتیان کرام کی سرپرستی اور نگرانی میں قائم ہو، اور بااعتماد لوگوں کے ہاتھوں میں رہے۔
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره۔ (الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،باب المصرف،ج1،ص140)
ولو قضى دين حي فقيرإن قضى بغير أمره لم يجز لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه۔ (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، فصل في ركن الزكوة،ج2، ص457)
مصرف الزكاة والعشر۔۔۔۔۔( هو فقير وهو من له أدنى شيء ) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير تام مستغرق في الحاجة ( ومسكين من لا شيء له ) على المذهب لقوله تعالى { أو مسكينا ذا متربة }۔(الدرالمختار، کتاب الزکوۃ،باب المصرف،ج1، ص140، دارالإشاعةالعربية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں