بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مستحب کو چھوڑنے والے اور دوسروں کو اس پرعمل کرنے کے لیے مجبور کرنے والے کا حکم


سوال

مستحب  کو چھوڑنے والا وعید اور سزا کا مستحق ہوتا ہے یا دوسروں  کو اس پرعمل کرنے  کے لیے مجبور کر نےوالا وعید اور سزا کا مستحق ہوتا ہے؟

جواب

         واضح رہے کہ مستحب ہر اس عمل کو کہتے ہیں کہ جس کا کرنا شرعاً بغیر الزام کے اس طور پر  مطلوب ہوکہ اس کاکرنے والا ثواب کا مستحق ہوتا ہے جبکہ اس کو ترک کرنے والا سزا اور عقاب کا مستحق نہیں ہوتا۔ تاہم مستحب عمل پر دوام اختیار کرنا مستحسن ہے، لیکن اس کو اعتقاداً یا عملاً واجب کی طرح  لازم سمجھنا جائز نہیں۔چنانچہ  مستحب عمل کو چھوڑنے والا وعید اور سزا کا مستحق نہیں، بلکہ جو شخص مستحب کا اس طرح التزام کرتا ہو کہ اس پر عمل نہ کرنے والوں کودھمکی دے کر اس کا پابند بنا تا ہوتو ایسا شخص شرعاً غیر لازم عمل کو لازم کرانے کی وجہ سے وعید کا مستحق ہوگا۔

 

فإن المندوب بفعله يستحق الثواب ولا يستحق بتركه العقاب۔(أصول السرخسي، باب الأمر، فصل في بيان موجب الأمر،ج:1، ص16)

وترك المستحب لا يوجب الكراهة۔(البحر الرائق، كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:210)

قال بن المنير فيه أن المندوبات قد تقلب مكروهات إذا رفعت عن رتبتها۔(فتح الباري، كتاب الآذان، باب الانفتال والانصراف عن اليمين والشمال، ج:2، ص:609)

فتلك هي الشاكلة في جميع المستحبات، فإنها تثبت طورا فطورا، ثم الأمة تواظب عليها. نعم نحكم بكونها بدعة إذا أفضى الأمر إلى النكير على من تركها۔(فيض الباري شرح الصحيح للبخاري، كتاب الدعوات، باب الدعاء بعد الصلوة، ج:4، ص:417)


فتویٰ نمبر : 4704/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں