بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نمازِ جنازہ کے بعد دعا کو لازم سمجھنا


سوال

1۔ اگر کوئی شخص نمازِ جنازہ کے بعد دعا نہیں کرتاتو اس  شخص کو اس موقع پر ہاتھ اٹھا کر دعا پر مجبور کرنے والا گناہ گار ہوگا یا نہیں؟2۔ کیا  نمازِ جنازہ کے بعد دعا  کرنے کو مستحب سمجھ کر عمل کرنے والے کے لیے دعا نہ کرنے والوں پر اعتراض و تنقید کرنا اور ان کو ملامت کرنا جائز ہے؟  

جواب

          علماے کرام  کی تصریحات کے مطابق نمازِ جنازہ کے  فوراً بعد صفیں توڑنے سے پہلے میت کے لیے دعا کرنے کا باقاعدہ اہتمام کرنا زیادۃ علی الشرع کے مترادف ہے، اس لیے کہ نمازِ جنازہ خود دعا ہے ،لہذا  اس کے بعد دوبارہ دعا  کرنا نمازِ جنازہ پر زیادت ہے، جب کہ صفیں توڑنے کے بعد  بغیر التزام کےدعا کرنا مباح ہے، البتہ اگر صفیں توڑنے کے بعد دعا کرنے کا اس طور پر  التزام کیا جائے کہ دعا نہ کرنے والوں کو ملامت اور لعن طعن کا نشانہ بنایا جائےتو پھر یہ بدعت کے زمرے میں داخل ہو کر نا جائز ہوگی۔

          لہذا صورتِ مسئولہ میں نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنے کا اس طرح التزام کرنے والا شخص  کہ دعا نہ کرنے والے کو نمازِ جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے پر مجبور کرتا ہو، گناہ گار ہوگا۔

۲۔نمازِ جنازہ کے بعد صفیں توڑ کر دعا کرنا چونکہ ایک مباح امر ہے، لہذ ا  اس پر عمل کرنے والے کےلیے دوسروں کو ملامت کرنا اور ان پر اعتراض اور تنقید کرنا شرعاً جائز نہیں ، کیونکہ اس التزام کی وجہ سے یہ دعا بدعت کے زمرے میں داخل ہوگی۔

 

ولا يدعو للميت بعد صلاة الجنازة لأنه يشبه الزيادة في صلاة الجنازة۔(مرقاة المفاتيح، كتاب الجنائز، باب المشي بالجنازة والصلوة عليها، الفصل الثالث، ج:4، ص:170) 

وهي أربع تكبيرات بثناء بعد الأولى وصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم بعد الثانية ودعاء بعد الثالثة وتسليمتين بعد الرابعة )۔۔۔۔ وقيد بقوله بعد الثالثة لأنه لا يدعو بعد التسليم كما في الخلاصة وعن الفضلي لا بأس به۔(البحر الرائق، كتاب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلوته، ج:2، ص:320۔321)

(البدعة )ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما۔(رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الصلوة، باب اللإمامة، مطلب:البدعة خمسة اقسام، ج:2، ص:299)


فتویٰ نمبر : 8859/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں