بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

باپ کے کاروبار سے خریدے ہوئے اثاثوں میں بیٹیوں کی میراث کا حکم


سوال

  میرے والد صاحب پچھلے رمضان میں وفات پا گئے ہیں۔وہ ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرتے تھے۔ہم چار بھائی اور تین بہنیں  ہیں اور سب شادی شدہ ہیں۔میرے دو بھائی ملازم ہیں ا ور باقی دو بھائی میرے والد صاحب مرحوم کا کاروبار چلاتے ہیں اور بڑا بھائی بھی والد صاحب کے کاروبار میں چھوٹے بھائی کی مدد کرتے ہیں اور اس کے بدلے ماہانہ مقررہ تنخواہ لیتے ہے،اور چھوٹا بھائی  ماہانہ مقررہ تنخواہ تو نہیں لیتا،مگر ضرورت کے مطابق کاروبار سے رقم خرچ کرتا ہے ۔یہ بات واضح رہے کہ مکمل کاروبار کا مالک حیات تک میرے والد صاحب ہی تھے اور آج تک تمام اکاؤنٹ بھی اس کے نام پر ہیں۔میرے چھوٹے بھائی نے محلہ کے امام سے مسئلہ پوچھا ،تو اس نے بتایا کہ تمھاری بہنیں صرف ان اثاثہ جات میں میراث کے حق دار ہیں جو 2013ء تک ہیں اور جو اثاثہ جات 2013ء کے بعدکے ہیں اس میں بہنیں وراثت کے حق دار نہیں ،کیونکہ 2013ء کے  بعد آپ کے والد صاحب کاروبار پر خود نہیں آیا کرتے تھے ،بلکہ تمام تر سرگرمیاں آپ خود ہی سرانجام  دیتے تھے۔لہذا آپ مفتیان کرام اسلامی قانون وراثت کی روشنی میں واضح فرمائے کہ واقعی بہنیں 2013ء کےبعد کے اثاثہ جات میں میراث کے حق دار ہیں یا نہیں؟

جواب

                 واضح رہے کہ اگر کوئی شخص خود اپنا ذاتی  کاروبار شروع کرے اور اس کے بیٹے بھی اس کے ساتھ اسی کاروبار  میں  کام کرنے لگیں تو  بیٹے محض کام کرنے سے  باپ کے کاروبار  میں شریک نہیں بن جاتے ،بلکہ صرف باپ کے معاونین شمار ہوں گے اور کمائی باپ کی  ملکیت شمار ہوگی ۔لہذا اس کاروبار کی آمدنی سے جو بھی چیزیں خریدی جائیں وہ باپ کی ملکیت شمار ہوں گی اور باپ کی وفات کے بعد اس میں تمام ورثا شریک ہوں گے۔

یہ تواصولی جواب ہے،جبکہ سوال میں جوصورت ذکرہےاس میں چونکہ بھائیوں کاموقف مذکور نہیں ،اس لیے یک طرفہ بیان پرکوئی حتمی فیصلہ نہیں کیاجاسکتا۔

 

  إذا عمل رجل في صنعة  هو وابنه  الذي في عياله  ،فجميع الكسب لذلك الرجل ،وولده يعد معينا له۔(شرح المجله لسليم رستم باز ،الماده :1398 ،ص741)


فتویٰ نمبر : 4159/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں