بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

نکاح میں لڑکے والوں سے مہر کے علاوہ رقم کا مطالبہ کرنا


سوال

 بعض علاقوں ميں یہ رسم عام ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی کے گھر والے ،لڑکے کے گھر والوں سے نقد رقم کا مطالبہ کرتے ہیں ،اور اس رقم کو پھر یا تو مہر میں سے شمار کرتے ہیں ،یااس سے سامانِ جہیز خریدلیتے ہیں،اور شادی کے دیگر انتظاما ت کرتے ہیں ،جبکہ بعض لوگ تو اس رقم میں سے لڑکی کو کچھ نہیں دیتے بلکہ سارے پیسے باپ اور بھائی کھالیتے ہیں ۔اسی طرح بعض اوقات لڑکی والے مہمانوں کو کھانا کھلانے کے لیے لڑکے والوں سے بیل ،گائے وغیرہ مانگتے ہیں ،شریعت کی رو سے یہ طلب کرنا اور پھر اس کا خود کھانا یا مہمانوں کو کھلانا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

            واضح رہے کہ نکاح صرف طبعی خواہش وشخصی ضرورت کی تکمیل ہی نہیں بلکہ ایک عبادت ہے ،اس لیے اس میں شرعی اصول کی پاسداری نہایت ضروری ہے ،اور کسی ناجائز رسم ورواج کی بنا پر اس کو شریعت کے اصول سے متصادم بنانادرست نہیں ۔مثلاً لڑکی کےنکاح کے بدلے ،لڑکے کے والدین سے مہر کے علاوہ اپنے لیے اضافی رقم کا مطالبہ ایک ناجائز عمل ہے۔عموماً ایسی صورت میں لڑکایا اس کے  والدین مجبور ہوکر بادلِ ناخواستہ رقم ادا کرتے ہیں،کیوں کہ اس کے بغیر معاشرے میں کوئی اس کو رشتہ دینے پر آمادہ نہیں ہوتا ،بعض لوگ اس آمدنی کو مہر کا نام دےکردوسرے كے  مال کو ہڑپ کرنے کے لیے حیلہ بازی کرتے ہیں کہ یہ مہر ہے اور بیٹی کی رضامندی سے ہمارے لیے اس کا استعمال جائز ہے ،جبکہ حقیقت میں یہ ایک ناکام حیلہ ہے جس سے مراد پیسے کاحصول ہے نہ کہ مہر کا تقرر، فقہائے کرام نے اس کو رشوت قراردیا ہے اس کو واپس کرنا ضروری ہے ۔ تاہم اگر لڑکی کے والدین مہر کے طور پر رقم مقرر کرکے نکاح کے بعد رخصتی سے قبل وہ رقم وصول کریں اور اس رقم سے لڑکی کی اجازت سے اس کے لیے جہیز وغیرہ کا سامان خریدلیں، تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ۔

 

(أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده) لأنه رشوة. (قوله عند التسليم) أي بأن أبى أن يسلمها أخوها أو نحوه حتى يأخذ شيئا، وكذا لو أبى أن يزوجها فللزوج الاسترداد قائما أو هالكا لأنه رشوة۔(ردالمحتار مع الدرالمختار ، كتاب النكاح ، باب المهر ، ج: 4 ص: 307)


فتویٰ نمبر : 6267/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں