بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ذی روح کی تصویر بنانے کاحکم


سوال

1۔کاغذ،کپڑے اور پوسٹر پر ذی روح تصویر اتارنے کا کیا حکم ہے ؟2۔کسی شخص کا کسی جماعت میں شریک ہونے پر مرحبا کے طور پر ،اور  شمولیت کے اظھار کے طور پر اس کے تصویر کو بمع ان لوگوں کے تصاویر کے جن کے ساتھ شمولیت کی ہے،کاغذ،پوسٹر وغیرہ پر شائع کرکے ترحیبی کلمات کے ساتھ لٹکانا کیسا ہے؟3۔نیز ایسا کرنے والا شرعا مرتکب گناہ صغیرہ ہے یا کبیرہ؟اگر مرتکب گناہ کبیرہ ہو،تو علی الاعلان ایسا کرنے کی صورت میں فاسق کہلائے گا یا نہیں؟

جواب

          واضح رہے کہ جاندار (ذی روح)کی تصویر بنانا یا بنوانا دونوں شرعا ممنوع ہے،خواہ تصویر دیوار پر بنائی جائے یا کاغذ پر یا کپڑے پر یا کسی پوسٹر وغیرہ   پر،چاہے قلم سے بنائی جائے یا مشین سے یا کسی اور آلہ سے ،بہر صورت ناجائز اور حرام ہے۔احادیث مبارکہ میں تصاویر بنانے کے متعلق بڑی  وعیدیں آئی ہیں ۔حدیث شریف میں اس عمل کو اللہ تعالی کے ساتھ صفتِ خلق (پیدائش)میں مشابہت اختیار کرنے کے مترادف  قرار دیا گیا ہے۔تاہم جہاں ضرورت  شدیدہ ہو،جیساکہ آج کل شناختی کارڈ،کہ اس کے بغیر اپنے  وطن  میں بھی رہنا  مشکل ہو جاتا ہے تو ایسی ضرورت   کے پیش نظر تصویر بنوانے کی گنجائش ہے۔

          صورت مسئولہ میں:1۔کسی کاغذ،کپڑے اور پوسٹر وغیرہ پر ذی روح کی تصویر  بنانا اگر ضرورت کے دائرہ میں ہوتو رخصت ہےورنہ بغیرضرورت کےناجائزکےحکم کےسوااورکوئی چارہ نہیں۔ نیزشخص اور حالات کے حوالے سے ضرورت کادائرہ بدلتارہتاہے۔

2۔اگر کسی جماعت میں شمولیت   کے لیے چند مہمانان  خصوصی کو دعوت دی گئی ہو تو ان کی ترحیب کے واسطے کسی پوسٹر وغیرہ پر ان کی تصویریں بنانا ،اور ان پر ترحیبی کلمات لکھ کر ان کے استقبال کے لیے لٹکانا بظاہرضرورت نہیں،کیونکہ  ترحیب تصویروں کے علاوہ صرف ان کے نام لکھنے کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔

3۔احادیث مبارکہ میں تصاویر بنانے کے متعلق بڑی وعیدیں آئی ہیں ،لہذابلاضرورت تصویربناناگناہ ہے،اور مسلمان کوہراس گناہ سےبچناضروری ہےجواس کی شخصیت اورکردارپراثراندازہو،گناہ صغیرہ اورکبیرہ ہوناالگ الگ اصطلاح ہے،لیکن دانش مندی کاتقاضہ یہ نہیں کہ کوئی مسلمان گناہ صغیرہ پرجرات کرے۔

 

قَالَ: كُنَّا مَعَ مَسْرُوقٍ، فِي دَارِ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ، فَرَأَى فِي صُفَّتِهِ تَمَاثِيلَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ المُصَوِّرُونَ»(صحيح البخاري،كتاب اللباس،باب عذاب المصوّرين يوم القيامة،ج1 ص77)

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها(ردالمحتار،كتاب الصلاة،باب ما يفسدالصلاة وما يكره فيها،ج1ص416)


فتویٰ نمبر : 4691/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں