بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

اجارہ پر دی ہوئی زرعی زمین کی آمدنی میں زکوۃ یا عشر


سوال

 مالکِ زمین نے زرعی زمین کو سالانہ پچیس ہزار(25000) روپے پر اجارہ دار کو دی ہے، اب اجارہ دار نے مالکِ زمین کو پچیس ہزار(25000) روپے بطورِ اجارہ دیے ہیں تو مالکِ زمیں س رقم میں سے عشر ادا کرےگا یا زکوۃ؟ جب کہ زمین نہری پانی سے سیراب ہونے والی ہے۔

جواب

         اس میں کوئی شک نہیں کہ زمین کی پیداوار میں عشر یا نصف عشر کی ادائیگی لازم ہوتی ہےلیکن اگر مالک اپنی زمین کسی اجارہ دار کو ماہانہ یا سالانہ متعین رقم یا غلہ کے بدلے دےدے، تو اس صورت میں چونکہ زمین کی پیداوار براہ راست اجارہ دار کو ملتی ہے، اس لیےعشر یا نصف عشر کی ادائیگی اس  پر لازم ہوگی، جب کہ مالکِ زمین اگر صاحبِ نصاب ہو تو اس پر زمین کی آمدنی میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ لازم ہوگی۔    

      لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مالکِ زمین پہلے سے صاحب نصاب ہو یا اس رقم کی وجہ سے صاحبِ نصاب بن گیا ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پر دیگر اموالِ زکوۃ سمیت اس رقم(25000 روپے) میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ لازم ہوگی، عشر اس پر لازم نہیں۔

 

والعشر على المؤجر كخراج موظف، وقالا: على المستأجر كمستعير مسلم.وفي الحاوي: وبقولهما نأخذ. (الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الزكوة، باب العشر، 3/ 276)


فتویٰ نمبر : 8838/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں