بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
عدت ِطلاق کی ابتدا
سوال
ایک شخص نے تین چار سال پہلے بیوی کو تین طلاق دیئےچند دنوں کے بعد تجدید ِنکاح کیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ طلاق سے پہلے میں نے کفریہ کلمات کہے تھے ،جس کی وجہ سے میرا نکاح ٹوٹ چکا تھا لہذا طلاقیں واقع نہیں ہوئیں۔بعد میں مفتیان ِکرام نے بتایا کہ ان کلمات کی وجہ سے نکاح نہیں ٹوٹا کیونکہ اس شخص نے کفریہ کلمات سوچھے تھے ،تلفظ نہیں کیا تھا اور شرعاً تینوں طلاق واقع ہیں جہاں تجدید ِنکاح درست نہیں ،اس لیے متارکت کریں۔اس نے متارکت کی نیت سے کئی مرتبہ اس بیوی کو طلاق دیئے ہیں تین چار سال گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود عدت ختم نہیں ہوئی کہ اس نے طلاق چھپایا تھا ،لہذا عدت شرو ع ہونے کے لیے اقرار ِطلاق ضروری ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ جب اس شخص نے متارکت عدت شروع ہونے سے پہلے کی ہے عدت شروع ہونے کے بعد نہیں کی ہے،کیونکہ طلاق چھپانے کی وجہ سے ابتدا ے عدت کے لیے اقرارِطلاق ضروری ہوتا ہےجو اس شخص نے نہیں کی تھی تو عدت شروع ہونے سے پہلے جو متارکت کی ہے وہ کافی ہے یا نہیں؟نیز متارکت کی نیت سے کئی مرتبہ جو طلاق کے الفاظ استعمال کیے ہیں اس کی وجہ سے عدد ِ طلاق میں کمی آئے گی یا نہیں؟اور تحلیل کے بعد تین طلاق کا اختیار حاصل ہوگایا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق کی صورت میں عدت کی ابتدا طلاق دینےکے بعد سے ہوگی اور وفات کی صورت میں شوہر کی وفات کے بعد سے عدت کی ابتداہوگی چنانچہ اگر شوہر نے طلاق دی اور عورت کو اس کا علم نہیں ہوسکا یا شوہر کی وفات ہوگئی اور عورت بے خبر رہی یہاں تک کہ عدت کا زمانہ گزر گیا تو حکم یہ ہے کہ اس کی عدت پوری ہوچکی ہے معلوم ہونے کے بعد عدت کا اعادہ نہیں ہوگا۔حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورائمہ اربعہؒ کا یہی مذہب ہے۔البتہ بخاراا ور سمرقند کے علما کا طلاق کی صورت میں یہ فتوی تھا کہ عدت کی ابتدااقرار ِطلاق کے وقت سے ہوگی تاکہ باہم اتفاق کر لینے کی تہمت دور ہوسکے۔ صاحب ِبحر وغیرہ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہےکہ ایسی صورت ِِ حال میں ابتداے عدت کے حوالے سے مبتلی بہ کی حالت کو ملحوظ ِنظر رکھنا زیادہ مناسب ہے ،چنانچہ اگر تہمت کا اندیشہ اور قرینہ نہ ہو تو ا س صورت میں طلاق دینے کے وقت سےہی عدت کی ابتدا ہوگی۔
صورت ِمسؤلہ میں اگر مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کوخبر دار کیے بغیر تین طلاقیں دی ہوں تو ائمہ اربعہ ؒ کے ہاں وقت ِطلاق سے ہی عدت شروع ہو چکی ہےاور تہمت کا خدشہ نہ ہونے کی وجہ سے اسی پر فتوی ہوگا۔بعد میں جب اس نے عدت کے اندر تجدید ِنکاح کیا تو یہ نکاح فاسدتھاجس میں متارکت ضروری تھی اور حسب ِبیان جب اس نے الفاظ کے ساتھ متارکت کی ہے تو عدت گزرنے کے بعد دوبارہ متارکت کی ضرورت نہیں۔نیز متارکت میں طلاق کےالفاظ کے تکرار سے دیگر طلاقیں واقع نہیں ہوئی ہیں کیونکہ تین طلاقوں سے نکاح ختم ہوچکاہے۔لہذا تحلیل کے بعد مزید تین طلاقوں کا اختیار شوہر کو حاصل ہوگا ۔
تنقضي(العدة) بدون العلم به ولو كان ركنا لما تصور الانقضاء بدونه وبدون العلم به وعلى هذا يبني وقت وجوب العدة إنها تجب من وقت وجود سبب الوجوب من الطلاق والوفاة وغير ذلك حتى لو بلغ المرأة طلاق زوجها أو موته فعليها العدة من يوم طلق أو مات عند عامة العلماء وعامة الصحابة رضي الله عنهم۔(بدائع الصنائع،كتاب الطلاق،فصل فيما يتعلق بتوابع الطلاق،ج4ص415)
إن فتوى المتأخرين مخالفة للأئمة الأربعة وجمهور الصحابة والتابعين رضي الله عنهم فينبغي أن يقيد بمحل التهمة۔(البحر الرائق،كتاب الطلاق،باب العدة،ج4ص244)
( ومبدأ العدة بعد الطلاق( و ) بعد ( الموت ) على الفور ( وتنقضي العدة وإن جهلت ) المرأة ( بهما ) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق أو أنكر۔۔۔( و ) مبدؤها ( في النكاح الفاسد بعد التفريق أو المتاركةأي ( إظهار العزم ) من الزوج ( على ترك وطئها ) بأن يقول بلسانه تركتك بلا وطء ونحوه ومنه الطلاق ۔(الدر المختار،باب العدة،ج5ص206،205)
وأن الأرجح عدم اشتراط علمها بالمتاركة۔۔۔اعلم أن انقضاء العدة لا ينحصر في إخبارها ،بل يكون به وبالفعل۔(رد المحتار،كتاب الطلاق،باب العدة،مطلب في وطئ المعتدة بشبهة،ج5ص207)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں