بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

تصویر دیکھنے کاحکم


سوال

فتاوی عثمانیہ  جلد10ص346پر ڈیجیٹل  تصاویر کے حکم کے بارے میں لکھتے ہے کہ جامعہ عثمانیہ  کی مجلس ِ فقہی نے سائنسئ ،تکنیکی اور فقہی تحقیق کے بعد اسے  دیگر تصاویر کی طرح حرام قرار دیا ہے" لہذا اس فتوی کی رو سے  جاندار مذکر ومؤنث  ہر قسم کی تصویر حرام ہے  جبکہ تصویر دیکھنے کے حوالے سے   اسی جلد کے ص344 پر یوں لکھا  گیا ہے کہ "جن تصاویر کا بنانا اور گھر میں رکھنا ناجائز ہے ان کا  ارادہ اور قصداً دیکھنا  بھی ناجائز ہے ۔دوسری طرف تصویر کے دیکھنے کے حوالے سے  یہ بات کہی جاتی ہے کہ جس ذی روح  کو خارج میں دیکھنا جائز ہے مثلاً مرد تو اس کو تصویر کے  اندر بھی دیکھ سکتے ہے اب سوال یہ ہے کہ فتاوی عثمانیہ  ص344اور346 والی عبارت کو  دیکھتے ہوئےسخت مشقت کا سامنا کرنا پڑتا  ہے کہ کسی جاندار کی تصویر کوبھی نہیں دیکھ سکتے ،نیز شناختی کارڈ  ،پاس پورٹ    وغیرہ والی تصاویر کو بھی بغیر ضرورت کے دیکھنا ناجائز معلوم ہوتا ہے اسی طرح اخبار وغیرہ کو دیکھنا  بھی ناجائز معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگرچہ اخبار میں بالقصد تصاویر  دیکھنے کا ارادہ نہ ہو توکچھ مذائقہ  نہیں لیکن "الوسیلۃ الی الحرام حرام "کی رو سے مطلق دیکھنا بھی ناجائز معلوم ہوتا ہے ،جبکہ ثانی الذکر بات کو لیتے ہوئے آسانی معلوم ہوتی ہے لیکن قرآن وحدیث اور فقہاء کرام ؒ کی عبارات سے اس کا اثبات کیسے ہوگا نیز اگر اس کو اختیار کیا جائے تو فتاوی عثمانیہ اور جواہر الفقہ میں مذکور حکم  کی کیا توجیہ ہوگی ؟

جواب

              واضح رہے کہ  بلا ضرورت تصاویر کھینچنے یا رکھنے کی حرمت  احادیث ِمبارکہ سے ثابت ہے، چاہے وہ تصاویر ہاتھ سے بنائی گئی  ہوں یا ڈیجیٹل کیمرے سے ۔جہاں تک تصویر  دیکھنے کا مسئلہ ہے تو بنیادی طور پر اس کے ناجائزیا جائز ہونے کا مدار فتنہ  میں پڑنے اور نہ پڑنے پر ہے،چنانچہ  اگر تصویر کے دیکھنےسے فتنہ میں  پڑنے کا اندیشہ ہو یا وہ تصاویر فحاشی و عریانی کی ترجمانی کرتے ہو ں تو اس صورت میں ان کو دیکھنا جائز نہیں جس طرح خارج میں ان کو دیکھنا ممنوع ہے۔لیکن اگر تصاویر میں موجود صورتوں  کو خارج میں دیکھنا فی نفسہ جائز اور مباح ہو تو تصاویر میں بھی ان کو دیکھنے کی گنجائش ہےبشرط یہ کہ تلہی و تلذذ کی نیت نہ ہو ،کیونکہ ممنوع عوارض کی وجہ سے مباح الاصل چیز بھی شرعاً ممنوع و مذموم ہوتی ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔

             صورت ِمسؤلہ میں تصویردیکھنےکی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں:(1)کسی حیوان کی تصویر ہو۔شرعاً ایسے تصویر کو دیکھنا جائزہےتاہم حیوانا ت کی تصاویر کو محفوظ کرکے رکھنا جائز نہیں۔(2)تصویر کسی انسان کی ہو ۔اس صورت میں تلہی و تلعب اور تلذذواستمتاع کی خاطر اس کو دیکھنا جائز نہیں ۔لیکن اگر ایسی تصویر کو دیکھنے سے مقصود تلہی وتلذذ حاصل کرنا نہ ہواور نہ ہی اس کی وجہ سے قوت ِشہوانیہ  پروان چڑھتی ہو تو اس صورت میں اگر خارج میں اس کی طرف  نظر کرنا حلال و مباح ہوتو تصویر میں بھی اس کو دیکھنے کی گنجائش ہے۔(3)اگر تصویر نامحرم خواتین کی ہو یا  فحش مناظر پر مشتمل ہو تو شرعاً ایسے مناظر اور تصاویر دیکھنا جائز نہیں۔

            فتاوی عثمانیہ ج10ص344میں تصویر دیکھنے سے متعلق جو حکم "جن تصاویر کابنانا اور گھر میں رکھنا ناجائز ہےان کا ارادہ اور قصد کے ساتھ دیکھنا بھی ناجائزہے"مذکور ہے یہ ان صورتوں پر محمول ہے جہاں پر تصویر کے دیکھنے سے قصد وارادہ  تلہی وتلعب ہویاوہ فحش تصاویر ہوں یاتصاویر نامحرم عورتوں کی ہو ں اور اس کے دیکھنے سے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو ان صورتوں میں ان کو دیکھنا ممنوع ہے۔علاوہ ازیں فتاوی عثمانیہ کے ج10ص346میں مذکور تفصیل"ڈیجیٹل تصویر دیگر تصاویر کے حکم میں ہے۔۔۔" تصویر بنانے سے متعلق ہےلہذا کسی معتد بہ ضرورت کے بغیر ڈیجیٹل تصویر بنانا یا کھینچوانا جائز نہیں۔

 

وظاہر کلام النووی  فی شرح صحیح مسلم الاجماع علی تحریم  تصویر صورۃ  الحیوان۔(البحر الرائق،ج2ص29)

الضرورات تبیح المحظورات۔(الاشباہ والنظائرلابن نجیم ؒ،ص72)

( وحرم الانتفاع بها )أي بالخمر ولو لسقي دواب أو لطين أو نظر للتلهي۔(الدر المختار،فصل الشرب،ج6ص449)


فتویٰ نمبر : 4696/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں