بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
عامل کایہ کہنا کہ "پیسے مسجد میں دو"
سوال
ايك عامل نےكسی پردم كيااورجب وہ اس کاشکرانہ دینےلگاتوعامل نےکہاکہ کسی مسجدمیں دو۔اب دریافت طلب امر یہ کہ پیسےعامل نےلیےنہیں تھےلینےسےقبل کہاکہ "مسجدمیں دو"توکیااس کہنےسےوہ اس کاوکیل بالصدقہ شمارہوگایا نہیں؟نیزاگروہ وکیل بالصدقہ ہےتوکیامسجدہی میں وہ پیسے دینےلازم ہیں یاکسی اورمصرف میں بھی خرچ کرسکتاہے
جواب
متعدد روایات اور فقہاےکرام کی عبارات سےدم اورتعویذکےبدلےاجرت لینا ثابت ہے،نیز قرآنی آیات اوردیگرماثور اورادووظائف کااپناایک خاص اثرہوتاہے،چنانچہ ان کےذریعےدم کرنے سےاللہ تعالی کی مشیت سےمرض سےشفا مل جاتی ہے ۔
صورتِ مسئولہ کےمطابق اگرکسی احکام شرعیہ کےپابنداورمتبع السنۃ عامل نےپہلے سےاپنی اجرت متعین کی ہویااس کی اجرت معلوم ومعروف ہواوردم کرنےکےبعداجرت پرقبضہ کرنےسےپہلےدم کروانےوالےکووہ اجرت مسجد میں خرچ کرنےکاکہاہوتویہ اس عامل کی جانب سےتوکیل بالصدقہ شمارہوگی ،اور وکیل مؤکل کےحکم کےمطابق اس رقم کےخرچ کرنےکاپابندہوگا،اس کےخلاف خرچ کرنےسےوہ خائن متصورہوگا،تاہم اگردم کرنے سےپہلےعامل کی طرف سے اجرت کی تعیین نہ کی گئی ہواورنہ پہلےسے اجرت لینا معروف ومتعین ہوتواس صورت میں عامل کایہ کہناکہ "پیسےمسجدمیں دو" محض صدقہ کی ترغیب پرمحمول ہوگانہ کہ توکیل پر،لہذاوہ اس کی اپنی ملکیت ہےجہاں چاہےبطورصدقہ خرچ کر سکتاہے۔
عن أبي سعيد رضي الله عنه، قال: انطلق نفر من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في سفرة سافروها، حتى نزلوا على حي من أحياء العرب، فاستضافوهم فأبوا أن يضيفوهم، فلدغ سيد ذلك الحي، فسعوا له بكل شيء لا ينفعه شيء، فقال بعضهم: لو أتيتم هؤلاء الرهط الذين نزلوا، لعله أن يكون عند بعضهم شيء، فأتوهم، فقالوا: يا أيها الرهط إن سيدنا لدغ، وسعينا له بكل شيء لا ينفعه، فهل عند أحد منكم من شيء؟ فقال بعضهم: نعم، والله إني لأرقي، ولكن والله لقد استضفناكم فلم تضيفونا، فما أنا براق لكم حتى تجعلوا لنا جعلا، فصالحوهم على قطيع من الغنم، فانطلق يتفل عليه، ويقرأ: الحمد لله رب العالمين فكأنما نشط من عقال، فانطلق يمشي وما به قلبة، قال: فأوفوهم جعلهم الذي صالحوهم عليه، فقال بعضهم: اقسموا، فقال الذي رقى: لا تفعلوا حتى نأتي النبي صلى الله عليه وسلم فنذكر له الذي كان، فننظر ما يأمرنا، فقدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكروا له، فقال: «وما يدريك أنها رقية» ، ثم قال: «قد أصبتم، اقسموا، واضربوا لي معكم سهما» فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم۔(أخرجه البخارى، كتاب الإجارة، باب مايعطى فى الرقيةعلى أحياءالعرب بفاتحةالكتاب، رقم الحديث:2276، ج:2، ص:601، الطاف سنزكراتشي)
إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ (ردالمحتارعلى هامش الدرالمختار، كتاب الحظروالإباحة، فصل فى اللبس، ج:9، ص:523، دارالكتب العلمية)
جوزوا الرقية بالأجرة ولو بالقرآن كما ذكره الطحاوي؛ لأنها ليست عبادة محضة بل من التداوي.(ردالمحتارعلى هامش الدرالمختار،كتاب الإجارة،باب الإجارةالفاسدة، مطلب:تحريرمهم في عدم جوازالاستيجارعلى التلاوة۔۔۔۔۔، ج:9، ص:78، دارالكتب العلمية)
المعروف عرفا كالمشروط شرطا. (مجلةالأحكام العدلية، المقالةالثانية في بيان القواعدالفقهية، المادة:43، كتب خانه مركز علم وادب كراتشي)
وأما بيان ركن التوكيل:فهو الإيجاب والقبول فالإيجاب من الموكل أن يقول: " وكلتك بكذا " أو " افعل كذا " أو " أذنت لك أن تفعل كذا " ونحوه۔۔۔۔۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الوكالة، فصل في ركن التوكيل ،ج:7، ص:426، دارالكتب العلمية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں