بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

اسقاطِ جنین کی صورت میں وجوبِ غرّہ


سوال

1۔آج کل کے حساب سے اسقاطِ جنین کی دیت کتنی بنتی ہے؟2۔اگر ماں باپ کی رضامندی سے اسقاط جنین کیا گیا ہو تو اس صورت میں دیت کون ادا کرے گا؟3 ۔اگر اسقاط ماں اور ڈاکٹر کی باہمی رضامندی سے کیا گیا ہو تو کیا دونوں دیت ادا کریں گے اور کس تناسب سے ادا کریں گے؟

جواب

               واضح رہے کہ جب حمل ماں کے پیٹ میں ٹھہر جائے تو اس کے بعد اس کو ساقط کرنا شرعاً جائز نہیں ،بالخصوص جب حمل چار ماہ کا ہوجائے،کیوں کہ چار ماہ بعد بچے کے اعضا مکمل ہوکر اس کے اندر روح ڈالی جاتی ہے ،اس لیے اس کے بعد کو ساقط کرنا قتلِ اولاد کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

1۔اگر کسی شخص نے اس جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے جنین کواس وقت ساقط کیا جب اس کے اعضا ظاہر ہوگئے ہوں، توایسی صورت میں اس پر شرعاً غُرّہ (بطورِ جرمانہ ، پانچ سودرہم = 153گرام چاندی132=تولے چاندی یاا س کی قیمت ) لازم ہوگا ،جسے بچے کے شرعی ورثا کے درمیان میراث کے اصول کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ،البتہ اگر اسقاطِ جنین کے وقت اس کے اعضا ظاہر نہیں ہوئےتھے تو اس صورت میں کچھ لازم نہیں۔

2۔اگر کوئی عورت شوہر کی اجازت سے حمل کو ساقط کردے تو اس صورت میں اس پر غرّہ (جرمانہ) لازم نہیں ہوتا ،البتہ بلا کسی معقول عذر کے اسقاط کی صورت میں گناہ اپنی جگہ باقی رہے گا جس سے توبہ کرنا لازم ہے ۔

3۔اگر اسقاط ماں اور ڈاکٹر کی باہمی رضامندی سے کیا گیا ہو ،تو چونکہ اسقاط کے متعدد طریقے ہیں اور ہر ایک کا حکم ایک نہیں،اس لیے کسی خاص صورت کی وضاحت کے بغیر جس پر وجوبِ غرّہ واجب ہےاس کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ۔

 

(فلو ضرب بطن امرأته فألقت ابنه ميتا فعلى عاقلة الأب غرة ولا يرث منها) لأنه قاتل (وفي جنين الأمة) الرقيق الذكر (نصف عشر قيمته لو حيا وعشر قيمته لو أنثى) لما تقرر أن دية الرقيق قيمته ولا يلزم زيادة الأنثى لزيادة قيمة الذكر غالبا وفيه إشارة إلى أنه إذا لم يمكن الوقوف على كونه ذكرا أو أنثى فلا شيء عليه كما إذا ألقي بلا رأس لأنه إنما تجب القيمة إذا نفخ فيه الروح ولا تنفخ من غير رأس(تنوير الأبصار مع الدر المختار ، كتاب الديات ، فصل في الجنين ، ج: 10 ص: 252)

والجنين الذي قد استبان بعض خلقه بمنزلة الجنين التام في جميع هذه الأحكام" لإطلاق ما روينا، ولأنه ولد في حق أمومية الولد وانقضاء العدة والنفاس وغير ذلك، فكذا في حق هذا الحكم، ولأن بهذا القدر يتميز من العلقة والدم فكان نفسها ۔(الهداية ، كتاب الديات فصل في الجنين ، ج:  8 ، ص: 118 ، مكتبة البشرى)

 (وإن شربت دواء لتطرحه أو عالجت فرجها حتى أسقطته ضمن عاقلتها الغرة إن فعلت بلا إذن) ؛ لأنها ألقته متعدية فيجب عليها ضمانه وتتحمل عنها العاقلة لما بينا ولا ترث هي من الغرة شيئا؛ لأنها قاتلته بغير حق والقاتل لا يرث بخلاف ما إذا فعلت ذلك بإذن الزوج حيث لا تجب الغرة لعدم التعدي۔(البحرالرائق ، كتاب الديات ، فصل في الجنين ، ج: 9 ص: 105)


فتویٰ نمبر : 4703/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں