بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بچہ دانی نکالنے کے بعد نفاس کا حکم


سوال

 ایک عورت ہے،جس کی بچہ دانی نکال دی گئی ہے ،یعنی بچہ کی پیدائش کے وقت اب حیض کا خون تو بچہ دانی سے آتا ہے اب اس عورت کو ہمیشہ خون نہیں آئے گا لیکن مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ کیا اب یہ عورت نفاس گزارے گی حالانکہ اس کو بالکل خون نہیں آتا بلکہ لیکوریا کی طرح ایک پیلے رنگ کی رطوبت آتی ہے ،جب اس عورت کے خون کا ظرف ہی باقی نہیں تو یہ عورت نفاس گزارے گی اس رطوبت کی وجہ سے یا نماز پڑھے گی؟

جواب

           فقہاے کرام کی تعریفات کے مطابق بچے کی ولادت کے بعد رحم سے خارج ہونے والے خون کو نفاس کہتے ہیں ،یعنی  نفاس کا خون بچہ دانی سے آتا ہے۔چنانچہ  بچہ دانی کے نکلنے سے  نفاس کا محل ختم  ہونے کی وجہ سے نفاس کا خون بھی منقطع ہوگا۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی عورت کا بچہ اپریشن کے ذریعہ پیدا ہوجائےاوراس اپریشن میں اس کی بچہ دانی بھی بچے کے ساتھ نکالی گئی ہو تو ایسی عورت  نفاس والی شمار نہیں ہوتی لہذا اس پر نفاس کے احکام جاری نہ ہوں گے۔

 

(والنفاس) لغة: ولادة المرأة. وشرعا (دم) فلو لم تره هل تكون نفساء؟ المعتمد نعم (ويخرج) من رحمها فلو ولدته من سرتها إن سال الدم من الرحم فنفساء وإلا فذات جرح وإن ثبت له أحكام الولد (عقب ولد) أو أكثره ولو متقطعا عضوا عضوا لا أقله، فتتوضأ إن قدرت أو تتيمم وتومئ بصلاة ولا تؤخر۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج:1، ص:496، دارالکتب العلمیة)

"(وأما) النفاس فهو في عرف الشرع اسم للدم الخارج من الرحم عقيب الولادة،"(بدائع الصنائع،کتاب الطھارۃ، باب الحیض، احکام النفاس، ج:1، ص:292، دارالکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 8831/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں