بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

سینگ اکھاڑےہوئے جانورکی قربانی


سوال

بڑےجانوروں کی خوبصورتی اورمہنگےداموں فروخت کرنے کےلیےان کے سینگ اکھاڑدیےجاتےہیں،کبھی ان کے زخم بھرتےبھی نہیں ہیں،کیاایسے جانوروں کی قربانی جائز ہے؟

 

جواب

         واضح رہے کہ جس جانورکاایک یادونوں سینگ جڑسےاکھڑ گئے ہوں یااکھاڑدیے گئے ہوں اور یابالکل جڑسے کاٹ دیے گئےہوں یا تراشے گئےہوں لیکن ان کے زخم بھرگئے ہوں،تو ایسےجانورکی قربانی شرعاجائزہے،البتہ اگرزخم بھرے  نہ  ہو ں یااس کا اثر جانور کے دماغ تک پہنچ گیاہو،توایسے جانور کی قربانی جائزنہیں۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص جانورکے سینگ خوبصورتی یا مہنگےداموں فروخت کرنےکی خاطربالکل جڑسے کاٹ دےیااکھاڑدے ،اور اس کا اثر جانور کے دماغ  تک پہنچا ہو یازخم بھرانہ ہو،تواس حالت میں ایسے جانور   کی   قربانی جائز   نہیں، البتہ اگرزخم بھرگیا ہو،اوردماغ پرزخم کا کوئی اثرنہ ہو،توایسے جانور کی قربانی جائزہے۔

 

قوله:(ويضحي بالجماء) هي التي لا قرن لها خلقة وكذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره، فإن بلغ الكسر إلى المخ لم يجز(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الأضحية، ج:9، ص:467)

فإن بلغ الكسر المشاش لا تجزيه، والمشاش: رءوس العظام مثل الركبتين والمرفقين (بدائع الصنائع، كتاب الأضحية، ج:6، ص:318)

(وأما صفته) : فهو أن يكون سليما من العيوب الفاحشة، كذا في البدائع. ويجوز بالجماء التي لا قرن لها، وكذا مكسورة القرن، كذا في الكافي.وإن بلغ الكسر المشاش لايجزيه، والمشاش رءوس العظام مثل الركبتين والمرفقين، كذا في البدائع. (الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، ج:5ص:343)


فتویٰ نمبر : 8833/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں