بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 29/10/2026

دارالافتاء

 

ذی الحجہ کےابتدائی دس دنوں میں بال اور ناخن نہ کاٹنے کے استحباب کی وجہ


سوال

ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں  میں ناخن نہ کاٹنے کا حکم حدیث مبارک میں انتہائی تاکید کیساتھ ہے۔ یہ استحباب کا حکم کس بناء پر لگایا جاتا ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ احادیث میں ذی الحجہ کے مہینے کے داخل ہونے کے بعد قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لیے بال اور ناخن کاٹنے سے منع کیا گیا ہے اور نصوص میں وارد ہونے والا نہی اگرچہ حنفیہ کے نزدیک حقیقتا تحریم کے لیے ہوتا ہے ،لیکن اگر اس کے علاوہ کسی معنی پر کوئی قرینہ پایا جائے تو اس سےوہی معنی مراد ہوگا جیسا کہ ایک جوتے میں چلنے اور چوپایو ں کو تخت بنانے سے منع  کیا گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب  نہیں کہ ایسا کرنا حرام ہےبلکہ  ندب کے معنی میں ہے یعنی اس طرح نہ کرنا مستحب ہےـ

            لہذا صورت مسئولہ میں احادیث میں قربانی کرنے والے کے لیے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں بال اور ناخن کاٹنے سے جومنع کیا گیا ہے  یہ نہیں تحریم کے لیے نہیں کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  کی روایت ہے کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ھدی کو بھیج دیتے تھے اور پھر ہمارے درمیان حلال ہی رہتے تھے محرم جن چیزوں سے اجتناب کرتا ہے اس سے اجتناب نہیں فرماتے  حتی کہ لوگ واپس لوٹ آتے"اس حدیث سے  معلوم ہوتا ہے کہ نبی   کریم صلی اللہ علیہ وسلم  قربانی کا ارادہ  رکھتے تھے اور اس کے لیے ھدی بھی بھیج  دیتے تھے مگر احرام کی ممنوعات (بال اور ناخن کاٹنا وغیرہ)سے اجتناب نہیں فرماتے تھے نیز محدثین حضرات نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی روایت کو احسن اور متواتر قرار دیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو موقوف قرار دیا ہے  اسی طرح بعض علما  نے ناخن اور بال نہ کاٹنے والی روایت کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  کی روایت سے منسوخ قرار دیا ہے اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئےفقہا ئے  احناف نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو تحریم کی بجائے ندب  یعنی استحباب پر محمول کیا ہےـ

 

وھذا لأن النھي یکون  للندب کالأمر، کالنھی عن المشي في نعل واحد،وعن اتخاذ الدواب کراسي ونحو ذلک۔(كشف الأسرار شرح المصنف علی المنار،فصل في الأمر،ج:1،ص:140)

قال أبو جعفر: فذهب قوم إلى هذا الحديث فقلدوه، وجعلوه أصلا۔ وخالفهم في ذلك آخرون، فقالوا: لا بأس بقص الأظفار والشعر، في أيام العشر، لمن عزم على أن يضحي، ولمن لم يعزم على ذلك۔ واحتجوا في ذلك، بما قد ذكرناه في كتاب الحج، عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت: كنت أفتل قلائد هدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فيبعث بها، ثم يقيم فينا حلالا، لا يجتنب شيئا مما يجتنبه المحرم، حتى يرجع الناس۔ ففي ذلك دليل على إباحة، ما قد حظره الحديث الأول۔ ومجيء حديث عائشة رضي الله عنها أحسن، من مجيء حديث أم سلمة رضي الله عنها، لأنه جاء مجيئا متواترا۔ وحديث أم سلمة رضي الله عنها، فلم يجئ كذلك، بل قد طعن في إسناد حديث مالك، فقيل: إنه موقوف على أم سلمة رضي الله عنها۔(شرح معاني الآثار،باب من أوجب أضحية في أيام العشر،ج:3،ص؛481)

وحدثنا إبراهيم بن مرزوق، قال: ثنا بشر بن عمر، قال: ثنا بن أبي ذئب، عن یزيد بن عبد الله بن قسيط  أن عطاء بن يسار، وأبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، وأبا بكر بن سليمان، كانوا لا يرون بأسا أن يأخذ الرجل من شعره ويقلم أظفاره في عشر ذي الحجة۔ (شرح معاني الآثار،باب من أوجب أضحية في أيام العشر،ج:3،ص482)

واستدل الداودي بقولها "هدية" على أن الحديث الذي روته ميمونة مرفوعا "إذا دخل عشر ذي الحجة فمن أراد أن يضحي فلا يأخذ من شعره ولا من أظفاره" يكون منسوخا بحديث عائشة أو ناسخا۔ قال ابن التين: ولا يحتاج إلى ذلك، لأن عائشة إنما أنكرت أن يصير من يبعث هدية محرما بمجرد بعثه۔(فتح الباري۔ابن حجر،كتاب الأضاحي،باب إذابعث بهديه ليذبح لم يحرم عليه شيء،ج:11،ص؛140)


فتویٰ نمبر : 8851/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں