بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

حالت حیض میں سو کر طہر کی حالت میں جاگنے والی کی نماز کا حکم


سوال

ایک عورت نے عشاء کی نماز رات ۸ بجے  پڑھی اور رات ۳ بجے اس کو حیض شروع ہوا، اور اس نے دس دن اور دس راتیں پوری کیں لیکن اس کی پاکی کا وقت رات ۳ بجے ہے، تو کیا یہ عورت رات ۳ بجے اٹھ کر غسل کرکے نماز پڑھےگی یا صبح کے وقت اٹھ کر غسل کرکے صبح کی نماز پڑھے گی؟

جواب

واضح رہے جب کوئی عورت حالت حیض میں سو جائے اور پاکی کی حالت میں بیدار ہو تو اس پر  سونے  کے وقت سے پاکی کا حکم لگایا جائے گا لیکن اگر کوئی عورت پاکی کی حالت میں سو جائے اور حائضہ ہو کر بیدار ہو تو بیدار ہونے کے وقت سے وہ حائضہ شمار ہوگی۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی عورت کے طہر شروع ہونے کا وقت تقریبا رات  ۳ بجے ہو، تو اگروہ حیض کی حالت میں سو گئی  ،تو اس عورت پر یہ اہتمام کرناضروری ہے کہ وہ اپنے ممکنہ پاکی کے وقت اٹھے اور طہر کے یقینی ہونے کے بعد غسل کرکے صبح صادق سے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لے،لیکن اگر اس کی آنکھ صبح صادق کو نماز عشاء کا وقت گذرنے کے بعد طہر کی حالت میں کھلی تو وہ عشاء کی نمازکی قضا پڑھے گی، کیونکہ اس صورت میں اس کے سونے کے وقت سے پاکی کا حکم لگایا جائےگا۔   

وفي الفيض: لو نامت طاهرة وقامت حائضة حكم بحيضها منذ قامت وبعكسه منذ نامت احتياطا. (قوله وبعكسه) أي عكس التصوير المذكور، بأن نامت حائضا وقامت طاهرة: أي وضعت الكرسف ونامت فلما أصبحت رأت عليه الطهر لا عكس الحكم؛ لأنه بينه بقوله منذ نامت: أي حكم بحيضها من حين نامت فافهم (قوله احتياطا) أي في الصورتين، فتقضي العشاء فيهما إن لم تكن صلتها كما في البحر؛ حتى لو نامت قبل انقضاء الوقت ثم انتبهت بعد خروجه حائضا يجب عليها قضاء تلك الصلاة؛ لأنا جعلناها طاهرة في آخر الوقت حيث لم نحكم بحيضها إلا بعد خروجه، ولو نامت حائضا وانتبهت طاهرة بعد الوقت يجب عليها قضاء تلك الصلاة التي نامت عنها؛ لأنا جعلناها طاهرة من حين نامت، وحيث حكمنا بطهارتها في آخر الوقت وجب القضاء ولأن الدم حادث والأصل فيه أن يضاف إلى أقرب أوقاته فتجعل حائضا منذ قامت؛ والانقطاع عدم وهو الأصل فلا يحكم بخلافه إلا بدليل ولم يعلم درور الدم في نومها فجعلت طاهرة منذ نامت، فقد ظهر أن الاحتياط في الوجهين لا في العكس فقط رحمتي فافهم،(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج:1، ص:485، دارلکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 8830/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں