بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

علاج ومعالجہ کی رقم دیت سےمنہاکرنےکاحکم


سوال

ایک بندہ ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے اکسیڈنٹ کی صورت میں زخمی ہوا،جس کو ہسپتال لے جایا گیا،کئی دن اس کا علاج معالجہ ہوتا رہا،تاہم زخموں کی تاب نہ لاسکا اورفوت ہوگیا ،اب سوال یہ ہے کہ کیا اس کے علاج ومعالجہ کا جو خرچہ ڈرائیور نے کیا ہے اس کو دیت کی رقم سے منہا کیا جائے گا یا نہیں؟ باحوالہ جواب عنایت فرمائیں۔ 

جواب

            شرعی نقطہ نظر سے گاڑی سے قتل ہونے والا قتل، قتل خطا کے حکم میں ہے خواہ ڈرائیور کی غلطی ہی کیوں نہ ہو،لہٰذا اگر گاڑی سے کسی کو مارنے کی وجہ سے کوئی مر جائے اور ڈرائیور اقرار کرے کہ میری غلطی اور گاڑی کی ٹکر سے مر گیا ہے جب کہ عاقلہ اس کی تصدیق نہ کریں تو اس صورت میں دیت اور کفارہ ڈرائیور پر لازم ہوگا اور اگر ڈرائیور کے اقرار کے بغیر شرعی گواہان کے ذریعے قتل ثابت ہو جائےیا ڈرائیور اقرار کرے اور عاقلہ اس کی تصدیق کریں تو اس صورت میں کفارہ ڈرائیور پر اور دیت ڈرائیورسمیت اس کے عاقلہ پر لازم ہوگی۔

             صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے ایکسیڈنٹ میں زخمی ہو جائے اور ڈرائیور زخمی شخص کو ہسپتال لے جائے،  لیکن چند دن علاج معالجہ کرنے کے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوجائے اور ڈرائیور اقرار کرے  کہ میری غلطی کی وجہ سے مر گیا ہے تو اس صورت میں ڈرائیور پر دیت اور کفارہ لازم ہوگا ۔

جہاں تک علاج و معالجہ کی رقم کا مسئلہ ہے تو وہ دیت سے منہا نہیں ہوگی، کیونکہ جب ڈرائیور نے اپنی طرف سے اس کو ہسپتال لے جا کر اس کا علاج و معالجہ کیا ہے تو یہ شرعاتبرع واحسان کے زمرے میں داخل ہے جس کا مطالبہ وہ مقتول کے اولیاء سے نہیں کر سکتا اور نہ ہی دیت سے یہ رقم منہا کی جاسکتی ہے،تاہم اگر فریقین باہمی رضامندی سے دیت سے کم مقدار پر صلح کریں جس میں علاج کی رقم مقتول کے ورثا اپنی رضامندی سے صلح کی رقم سے منہا کریں تو یہ بھی جائز ہے۔

 

وإن كان صاحب الدابة راكبا على الدابة، والدابة تسير إن وطئت بيدها أو برجلها يضمن، وعلى عاقلته الدية، وتلزمه الكفارة۔(الفتاوى الهندية، كتاب الجنايات، الباب الثاني عشرفي جنايةالبهائم والجنايةعليها، ج:6، ص:60، دارالفكر)

(و) اعلم أنه (لا تعقل عاقلة جناية عبد ولا عمد) وإن سقط قوده بشبهة أو قتله ابنه عمدا كما مر (ولا ما لزم بصلح أو اعتراف) ولا ما دون نصف عشر الدية لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا تعقل العواقل وعمدا ولا عبداولا صلحا ولا اعترافا ولا ما دون أرش الموضحة» بل الجاني " (إلا أن يصدقوه في إقراره أو تقوم حجة)(الدرالمختار، كتاب المعاقل، ج:6، ص:634، دارالكتب العلمية)

لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ بِأَدَائِهِ وَالْمُتَبَرِّعُ لَا يَرْجِعُ.(العنايةشرح الهداية، كتاب الكفالة، ج:4، ص:92)


فتویٰ نمبر : 4689/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں