بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

كافر عورت كا مسلمان بچےكو دودھ پلانےسے ثبوت رضاعت


سوال

اگر کوئی کافر عورت مسلمان بچےکو دودھ پلائے،تو کیا حرمت رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں ؟اور یہ عورت اس بچے کی رضاعی والدہ ہوگی یا نہیں؟

 

جواب

          اگر کوئی بچہ مدت رضاعت میں اپنی ماں کےعلاوہ کسی اور عورت کا  دودھ پیے، تو اس سےحرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے،چنانچہ یہ دودھ پینے والا بچہ اس عورت کا رضاعی بیٹایابیٹی،اور یہ عورت اس بچے کی رضاعی ماں بن جاتی ہے۔

         صورت مسئولہ کے مطابق اگر کافر عورت  مسلمان بچےکو دودھ پلائےتو اس سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہو کر یہ عورت اس بچے کی رضاعی ماں  بن جاتی ہے ۔

 

قال قليل الرضاع وكثيره سواء إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم ۔۔۔ قوله تعالى { وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم } الآية وقوله عليه الصلاة والسلام يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب من غير فصل ولأن الحرمة وإن كانت لشبهة البعضية الثابتة بنشوز العظم وإنبات اللحم لكنه أمر مبطن فتعلق الحكم بفعل الإرضاع(الهداية،كتاب الرضاعة،ج:2 ،ص:223)


فتویٰ نمبر : 6271/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں