بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/08/2026 |
دارالافتاء
اجتماعی عمل افضل ہے یا انفرادی
سوال
تبلیغی ساتھی بعد نماز فجر مشورہ کرتے ہیں اور متفرق اعمال میں مشغول حضرات کو شمولیت مشورہ کی ترغیب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ سمندر کو چھوڑ کر قطرے کے پیچھے لگے ہوئےہیں یعنی کثیر ثواب کو چھوڑ کر قلیل میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ اس میں وہ حفاظ بھی ہوتے ہیں جن کو نوکری پیشہ ہونے کی وجہ سے صبح کے علاوہ سارا دن قرآن پڑھنے کا وقت نہیں ملتا وہ یہ چاہتے ہیں کہ صبح کو قرآن پاک کی منزل پڑھ لی جائےپھر سارا دن کام کرتے رہیں گے ، اگر مشورے میں بیٹھیں تو تلاوت کا وقت نہیں بچتا اور اگر تلاوت کریں تو مشورے میں شریک نہیں ہوسکتے۔اس میں چند امور کی وضاحت مطلوب ہے:
1 ۔ اجتماعی عمل کی تعریف کیا ہے؟ 2 ۔ اجتماعی اعمال کون کون سے ہیں؟ 3 ۔ اجتماعی عمل میں عدم شرکت سے ثواب کی کمی یا زیادتی میں فرق پڑتا ہے؟ 4 ۔ نوکری پیشہ یا مصروف حضرات کے لیے کیا حکم ہے؟ 5 ۔ اجتماعی عمل صرف تبلیغی ساتھیوں کے لیےہے یا تمام نمازیوں کے لئےہے؟
جواب
واضح رہے کہ تبلیغی جماعت والوں کا نصب العین اصلاح نفس اور اصلاحِ خلق ہے۔ اسی اصلاح کے پیشِ نظر مختلف اوقات میں مختلف اعمال کی ترتیب بنائی گئی ہےجن میں سے اکثر اعمال اجتماعی صورت میں کی جاتی ہیں۔
1۔ صورتِ مسئولہ میں اجتماعی اعمال کا اطلاق ہر اس عمل پر ہوتا ہے جس کو دو یا زیادہ افراد مل کر ہیئتِ اجتماعیہ کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں۔ چاہے وہ اجتماعی ذکر ہو یا بیان ہو یا تعلیم وتعلم ہو یا کوئی اور عمل ۔
2۔۔تبلیغی جماعت کے لیے بزرگوں کی بنائی گئی ترتیب میں بیان، فضائل کی تعلیم، گشت اور مختلف مذاکرے اجتماعی اعمال کہلاتے ہیں۔
5،3۔جہاں تک اجتماعی اور انفرادی اعمال میں ثواب کی کمی و زیادتی اور افضلیت کا تعلق ہےتو عمومی طور پر یہ کہنا درست نہیں کہ اجتماعی عمل کسی بھی انفرادی عمل(خواہ وہ تلاوتِ قرآن ہو) سے بہتر ہے اور مطلقاًانفرادی عمل کو قطرے اور اجتماعی عمل کو سمندر سے تشبیہ دینا مناسب نہیں، بلکہ در حقیقت تمام اعمال کے اپنے اپنےمراتب اور درجات ہیں۔ احوال اشخاص اور اوقات کے لحاظ سے اعمال کے مراتب فضائل میں فرق آتا رہتا ہے۔چنانچہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اللہ اور رسول پر ایمان لانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کو افضل عمل قرار دیا ، جہاں نماز کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کو افضل قرار دیا ، جہاں حسنِ سلوک کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کو افضل قرار دیا ، جہاد کے موقع پرضرورت محسوس ہوئی تو اس کو افضل قرار دیا۔اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان اعمال کے مقابلے میں دوسرے اعمال کی کوئی حیثیت نہیں ۔ لہذا جو شخص کسی بھی عمل کو سرانجام دے دے وہ اجر کا مستحق ہوگا اور اجر کا کم یا زیادہ ہونا اخلاص و للہیت پر موقوف ہے۔ تاہم اگر وعظ و نصیحت کی مجلس قائم ہو تو اس میں شرکت کرنی چاہئے کیونکہ انفرادی عمل دوسرے وقت میں کیا جاسکتا ہے اور مجالس ہر وقت قائم نہیں ہوتے۔
4۔نوکر پیشہ اور مصروف لوگوں کو اگر تبلیغی جماعت کے اجتماعی عمل میں شریک ہونے کے بعد تلاوتِ قرآن کا موقع ملتا ہو تو بہتر یہ ہے کہ اجتماعی عمل میں بھی شرکت کریں اور اس سے فارغ ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کریں تاکہ دونوں ثواب حاصل کر سکیں ۔ اگر بعد میں تلاوت کا موقع نہیں ملتا تو اجتماعی عمل کو چھوڑ کر تلاوت میں مشغول ہونے میں کوئی حرج نہیں ۔
عن علقمة بن وقاص الليثي، يقول: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه على المنبر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها، أو إلى امرأة ينكحها، فهجرته إلى ما هاجر إليه۔(الصحيح للبخاري، باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ج:1، ص:6)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل: أي العمل أفضل؟ فقال: إيمان بالله ورسوله. قيل: ثم ماذا؟ قال: الجهاد في سبيل الله قيل: ثم ماذا؟ قال: حج مبرور۔(الصحيح للبخاري، كتاب الإيمان، باب من قال الإيمان هو العمل،ج:1،ص:14)
عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أفضل الأعمال - أو العمل - الصلاة لوقتها، وبر الوالدين۔(الصحيح لمسلم، كتاب الإيمان، باب كون الإيمان بالله تعالى أفضل الأعمال،رقم الحديث:140، ج:1،ص: 37)
قال النووي ذكر في هذا الحديث الجهاد بعد الإيمان وفي حديث أبي ذر لم يذكر الحج وذكر العتق وفي حديث بن مسعود بدا بالصلاة ثم البر ثم الجهاد وفي الحديث المتقدم ذكر السلامه من اليد واللسان قال العلماء اختلاف الاجوبه في ذلك باختلاف الأحوال واحتياج المخاطبين۔(فتح الباري، كتاب الإيمان، باب من قال الإيمان هوالعمل،ج:1،ص:111)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں