بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

قادیانیوں کے پروڈکٹ کا کاروبار کرنے والے کے ساتھ میل جول رکھنا


سوال

ہمارے بعض مسلمان بھائی لاعلمی میں یا علم کے باوجود قادیانی پروڈکٹ کا کاروبار کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اور چیزوں کا کاروبار بھی کرتے ہیں، تو ایسے مسلمانوں کے ساتھ میل جول رکھنا، ان کی دکان سے خریداری کرنا، اور ان کی دعوت کو قبول کرنا کیسا ہے؟

جواب

          اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں انسانیت کے ساتھ ہمدردی، حسنِ اخلاق اور اچھے برتاؤ کی بہت تاکید کی گئی ہےحتی کہ غیرمسلم اگر مسلمانوں کے ساتھ برسرِپیکار نہ ہو تو ان کے ساتھ بھی حسنِ اخلاق اور ہمدردی کا رویہ رکھنے پر زور دیا گیا ہے، لیکن جو لوگ مسلمانوں کی روپ میں اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی رکھتے ہوں اور ان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوں تو ان کا حکم عام کفار جیسا نہیں بلکہ ان کےساتھ موالات اور ہر قسم کے تعلقات کو شریعت نے ممنوع قرار دیا ہے۔ چونکہ قادیانی بھی  اسلام کی روپ میں اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کھوکھلی کرکے اسلام کی عمارت کو منہدم کرنا چاہتے ہیں ،اس لیے ان سے جہاں دیگر تعلقات اور موالات شرعاً ممنوع ہیں وہاں ان سے تجارتی بائیکاٹ  کرنا بھی مسلمانوں کی ایمانی غیرت و حمیت کا تقاضا ہے، لہذا مسلمانوں کو ان کی مصنوعات کی خریدوفروخت سے بائیکاٹ کرنا چاہیے، تاکہ مسلمانوں کا پیسہ ان ہی کے خلاف استعمال نہ ہو۔

          صورتِ مسئولہ کے مطابق ایک مسلمان کے لیے جان بوجھ  کر قادیانیوں کے پروڈکٹ کا کاروبار کرنا  درست نہیں، البتہ اگر کسی کو علم نہ ہو تو اس کو  بھی سمجھا کر اس سے منع کرنا چاہیے۔اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قادیانوں کی مصنوعات کا کاروبار کرتا ہے اس کو نرمی اورحکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرنی  چاہیے ۔

 

قال اللہ تعالی: ﴿ لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ﴾ (المجادلة: 22)

و قال: ﴿ وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ﴾ (الانعام: 68)

وهذا يدل على أن علينا ترك مجالسة الملحدين وسائر الكفار عند إظهارهم الكفر والشرك وما لا يجوز على الله تعالى إذا لم يمكننا إنكاره. (احکام القرآن للجصاص، سورۃ الانعام، باب النہی عن مجالسة الظالمین،ج:3/ ص:2)


فتویٰ نمبر : 4701/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں