بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 18/10/2026 |
دارالافتاء
ہاتھ سے ٹوپی اٹھاکر اسی ہاتھ سے مسح کرنا
سوال
اگر کوئی شخص سر کا مسح کرتے وقت پہلے ٹوپی کو ہاتھوں سے اٹھائے پھر ان ہاتھوں سے مسح کرے تو کیا شرعا یہ مسح درست ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ تر ہاتھ کسی عضو پرپھیرنے کو اصطلاح فقہ میں مسح کہتے ہیں۔ فقہ حنفی کی رو سے چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے، جبکہ پورےسر کا مسح کرنا سنت ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص سر کا مسح کرتےوقت پہلے ٹوپی کو ہاتھوں سے اٹھائے اور پھران ہاتھوں سے مسح کرے تواس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر ٹوپی اتارنے کے بعد بھی ہاتھ تر رہا تو اس سےمسح ٹھیک ہوگا لیکن اگر ٹوپی یا عمامہ اتارنے میں ہاتھوں سے مکمل تری ختم ہو جائےتو ہاتھ پر تری باقی نہ رہنے کی وجہ سے مسح جائز نہ ہوگا۔ نیز مسنون مسح کی رعایت کرنے کے لیے ٹوپی اور عمامہ ،مسح کے لیے ہاتھوں کو گیلا کرنے سےپہلے اتارنا چاہیے تاکہ دونوں ہاتھوں کی مکمل تری کے ساتھ پورے سر کا مسح ہوسکے۔
قوله: "امرار اليد على الشيء" أي بلطف قوله: "إصابة اليد الخ" الأولى ما ذكره غيره بقوله وشرعا إصابة بلل لم يستعمل في غيره سواء كان المصاب عضوا أو غيره كشعر وخف وسيف ونحو ذلك وسواء كانت الإصابة باليد أو بغيرها حتى لو أصاب رأسه أو خفه خرقة مبتلة أو مطر أو ثلج قدر المفروض أجزأ سواء مسحه باليد أم لا اهـ(حاشیةالطحطاوي علی مراقي الفلاح شرح نورالإیضاح، ص:48)
"ثلاث أصابع ومدها حتى بلغ القدر المفروض قال في الفتح لم أر فيه إلا الجواز"(منحةالخالق علی ھامش البحر الرائق، کتاب الطھارۃ، سنن الوضوء، ج:۱، ص:35 ، دارالکتب العلمیة)
"(ومسح كل رأسه مرة) مستوعبة، فلو تركه ودوام عليه أثم (قوله: مستوعبة) هذا سنة أيضا، كما جزم به في الفتح، ثم نقل عن القنية أنه إذا داوم على ترك الاستيعاب بلا عذر يأثم،(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الطھارۃ، سنن الوضوء، ج:1، ص:244، دارالکتب العلمیة)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 475
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 150
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں