بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نئے سال کے شروع میں داخلہ فیس کے عنوان سے رقم لینا


سوال

ہمارا ایک پرائیویٹ سکول ہے۔جس میں ہم رزلٹ کے بعد نیا سال شروع کرنے پر سٹوڈنٹس سے داخلہ فیس کے عنوان سے چارجز وصول کرتے ہیں ،کیا شرعا ہر سال داخلہ فیس لینا جائز ہے؟ تفصیلا جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے کسی عین یا خدمت کا عوض لینا جائز ہے۔مگر جہاں عین اور  خدمت  دونوں مفقود  ہوں تو  وہاں بلا  وجہ  کسی کا مال لینا جائزنہیں۔

صورت مسئولہ  میں پرانے طلبا سے داخلہ فیس لینے  سے مراد بظاہر پروموشن فیس ہے، جو عموما طالب علموں سے اگلے کلاس میں پروموٹ ہونے پر لیا جاتا ہے، چونکہ اگلے کلاس میں پروموٹ ہونا طالب علم کا حق ہے ،اس لیے  اگلے کلاس میں  پروموٹ ہونے پر ان سے کوئی  فیس وصول کرنا جائز نہیں،تاہم نئے تعلیمی سال  میں داخلے کی تجدید کے لئے فارم پرکرنا یادیگر کارروائی اگر ضروری ہو تو اس کارروائی کا کوئی مناسب معاوضہ لینے کی گنجائش ہے۔

قال اللہ تعالی: ﴿  إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾ [النساء:58]

"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذمال أحد بغير سبب شرعي" ۔(البحرالرائق فصل في التعزير ج:5، ص:44، دار الکتب العلمیة)

"(يستحق القاضي الأجر على كتب الوثائق) والمحاضر والسجلات (قدر ما يجوز لغيره كالمفتي) فإنه يستحق أجر المثل على كتابة الفتوى" (ردالمحتار علی الدرالمختار،باب فسخ الإجارة،مطلب في إجارة المستأجر للمؤجر ولغيره، ج:9، ص:127، دارالکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 4681/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں