بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

والدین سے پہلے فوت ہونے والی عورت یا اس کی اولاد کا میراث میں حصہ


سوال

ایک عورت اپنے والدین سے پہلے فوت ہو چکی ہے، اب اس کے بچے اپنے ماموں سے اپنے نانا کی میراث میں حصے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیا ان کا اپنے نانا کی میراث میں شرعاً کوئی حصہ بنتا ہے؟

جواب

           شریعتِ مطہرہ کی رو سے میراث میں صرف ان وارثوں کا حصہ بنتا ہے جو میت کی موت کے وقت زندہ موجود ہوں، چنانچہ جو وارث اپنے مورِث سے پہلے فوت ہوچکا ہو تو اس کا مورِث کی میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔ نیز جب میت کے رشتہ داروں میں ذوی الفروض یاعصبات موجود ہوں تو اس کی میراث میں ذوی الارحام کا کوئی حصہ نہیں بنتا۔

          صورتِ مسئولہ کے مطابق اپنے والدین سے قبل فوت ہونے والی عورت کا والدین کی میراث میں شرعا کوئی حصہ نہیں بنتا۔ نیز اس عورت کی اولاد بھی چونکہ مرحومین  کے ذوی الارحام میں شامل ہیں اس لیے مرحومین کی اولاد کی موجودگی میں ان کی میراث میں نواسوں کا شرعا ً کوئی حصہ نہیں بنتا۔

 

وشروطه: ثلاثة... ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل. (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الفرائض، ج:10/ص:491)

( ثم عصبته الذكور ) لأنه ليس للنساء من الولاء إلا ما اعتقن ( ثم الرد ) على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم ( ثم ذوي الأرحام) (الدرالمختار علی صدر ردالمحتار، کتاب الفرائض، ج:10/ص:500)


فتویٰ نمبر : 4153/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں