بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

کفارہ کےروزوں میں حیض یاعیدکاحائل ہونا


سوال

اگرمیاں بیوی جان بوجھ کررمضان کےروزےکی حالت میں جماع کریں، اور کفارہ روزوں کی صورت میں ہو(1)تو ماہواری کے  ایام میں عورت کےروزوں کاتسلسل باقی رہےگایانہیں؟(2)اوراگر کفارہ کے ایام میں عید یا ایام تشریق آجائیں توان میں تسلسل باقی رہے گایانہیں؟(3)اور اگر عید یاایام تشریق ماہواری کے ایام میں آجائیں تو کیا تسلسل باقی رہے گایاازسرنوروزےرکھنےہوں گے؟

جواب

             واضح رہےکہ کفارہ کے روزوں میں تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے،اگر درمیان میں ایک روزہ بھی کسی عذرکی بنا پریابغیرعذر کے رہ جائےتوکفارہ ادا نہ ہوگا،بلکہ ازسرنوروزےرکھنے ہوں گے،البتہ عورت کے حق میں حیض کاعذراس کےکفارہ کےتسلسل میں اثراندازنہیں ہوتا،باقی تمام اعذارکفارہ پر اثراندازہوتےہیں۔

چنانچہ صورت مسئولہ میں:

1-اگرعورت کوکفارہ کے ایام میں ماہواری آجائےتوغیراختیاری ہونے کی بنا پرروزوں کے تسلسل پر کوئی اثرنہیں پڑے گا۔

2-اوراگرکفارہ کے درمیان عید یا  ایام تشریق  آجائیں  تو اس سےکفارہ کے روزوں میں تسلسل برقرارنہیں رہے گا،لہذاازسرنوروزےرکھنے ہوں گے۔

3-اگرعیداور ایام تشریق ماہواری کے ایام میں آجائیں تو اس صورت میں اگر ماہواری،عیداورایام تشریق کے ایام  سے پہلے شروع ہواوربعدمیں ختم ہوتوتسلسل برقرار رہے گا۔

 

كفارة الفطر وكفارة الظهار واحدة وهي عتق رقبة مؤمنة أو كافرة فإن لم يقدرعلى العتق فعليه صيام شهرين متتابعين وإن لم يستطع فعليه إطعام ستين مسكينا(الفتاوى الهندية، كتاب الصوم،فصل في المتفرقات،ج:1،ص:215)

فلو أفطر يوما في خلال المدة بطل ما قبله ولزمه الاستقبال سواء أفطر لعذر أو لا وكذا في كفارة القتل والظهار للنص على التتابع إلا لعذر الحيض لأنها لا تجد شهرين عادةلا تحيض فيهما لكنها إذا تطهرت تصل بما مضى فإن لم تصل  استقبلت (البحرالرائق، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم مالا يفسده،ج:2،ص:485)


فتویٰ نمبر : 8828/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں