بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ضآد کامخرج اور اس سے متعلق غلط فہمی


سوال

کیافرماتے ہیں علمائےکرام ومفتیان ِعظام مندرجہ ذیل مسئلےکے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں اکثر بچے حافظ قرآن ہیں۔ قرآن مجیدکوقواعدِتجویدکےساتھ پڑھتے ہیں۔نیزتجویدکےسندِیافتہ ہیں۔ حرفِ ضآدکو حافہ لسان اور اضراس علیا کی جڑ سے اداکرتے ہیں۔لیکن یہاں کچھ لوگ ایسے اداکرنے والے پرفتوی لگاتے ہیں کہ ان کی نماز فاسد ہوجاتی ہے اور اس طرح پڑھنے سے کافر ہوجاتے ہیں اور ان پر بیویاں طلاق ہوجاتی ہیں ۔اور کہتے ہیں کہ ضآدکا صحیح تلفظ"ظواد"ہے لہذا آپ مہربانی فرما کر شریعتِ مطہرہ کی رو سے وضاحت فرمائیں کہ ضاد کا صحیح تلفظ کیا ہے "ضآد"ہے یا"ظواد"ہے یا "دواد" ہے؟ جو لوگ "ظواد" یا "دواد" پڑھتے ہیں ان کا کیا حکم ہے ان کے پےچ ص نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ جو مولوی حضرات ان قرآئےکرام کو کافر بولتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟مدلل جواب کے ہم منتظر رہیں گے۔

جواب

شرعی احکام کی روسے جس شخص کو امامت جیسے منصب سے نوازا گیا ہو تو  اس کے لیے  ضروری ہے کہ وہ قرآن مجیدکے الفاظ  پر محنت کرکے قواعدِتجوید کی رعایت رکھتے ہوئے حروف کو صحیح طریقے سے ادا کرسکے ،تاہم اگر کوئی شخص ایسے دو حرفوں،جو متحدالمخرج ہوں یاقریب  المخرج ہوں،کے مابین  فرق نہیں کرسکتا تو اس قسم کی غلطیوں سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔اور اگر کوئی حرف نہ متحدالمخرج ہوں اور نہ ہی قریب المخرج ہوں ان کے مابین فرق نہ کرنے کی وجہ سے  نماز میں  فساد آتاہے۔

صورتِ مسئولہ میں جہاں تک حرف ضآد  کے صحیح تلفظ کا تعلق ہے سو وہ یہ ہے کہ حرفِ ضآدکا صحیح تلفظ" ضآد" ہے ، "ظواد" ، "دواد"یا"غداد"وغیرہ پڑھنا غلط ہے۔جولوگ ضآدکے بجائے "دواد"یا "ظواد"پڑھتے ہیں اگر جان بوجھ کر یا بے پر واہی سے  باوجود قادر بالفعل ہونے کے ایسا تغیر کرلے کہ ضآدکی جگہ" دال "یا خالص" ظآء"پڑھے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔اور اگر بوجہ  ناواقفیت وعدمِ تمیز ایسا سرزد ہوجائے  اور وہ اپنے نزدیک یہی سمجھے کہ میں نے حرف ضآدپڑھا ہےتو نماز صحیح ہوجائےگی۔

اور قرآء ،مجودین وعلما کی نماز کے جواز میں تفصیل یہ ہےکہ اگر غلطی قصداً یا بے پرواہی سے ہو تو نماز فاسد ہے اور اگر سبقتِ لسانی یا عدمِ تمیز  کی وجہ سے ہو  تو نماز جائز وصحیح ہے۔

اوربےجا کسی مسلمان کو "کافر"کہنا ناجائز وحرام ہے یہاں تک کہ بعض حضرات کے نزدیک  کسی مسلمان کو کافر کہنےسے خود کہنے والا کافر ہوجاتاہے۔اس لیے اس میں حد درجہ احتیاط برتنا لازم ہے۔

وإن بدل حرفا مكان حرف،الأصل فيه:أنه إن كان بينهماقرب المخرج أومن مخرج واحدلاتفسد صلاته.وزاد في المحيط قيدا لابد منه وهو أن يجوز إبدال أحدهما من الأخر وإلافهو منقرض بمسائل كثيرة. (حلبي كبيري ص/412)

 إن تعمد ذالك تفسد،وإن جرى على لسانه ولايعرف التمييزلاتفسد وهوالمختار.(ردالمحتار،كتاب الصلاة،باب مايفسد الصلاة،مطلب:إذا قرء((وتعالى جدك))2/396)    

  الأصل فيما إذا ذكرحرفا مكان حرف  وغيرالمعنى،إن أمكن الفصل بينهما بلامشقة تفسد،وإن لايمكن إلابمشقة كالظاء مع الضاد المعجمتين والصادمع السين المهملتين والطاءمع التاء،قال أكثرهم لاتفسد.   (بحواله بالا)

ولو قرء"الدالين"بالدال تفسد صلاته.(فتاوى قاضيخان،كتاب الصلاة،باب الحدث فى الصلاة،الفصل:فى قراءة القران خطاء1/90)

ويكفر من قال.....وبقوله لمسلم"ياكافر" عندالبعض ولو أحد الزوجين للأخر،والمختار للفتوي أن يكفر أن اعتقده كافرا،لا إن أراد شتمه. (البحرالرائق،كتاب السير،باب أحكام المرتدين5/207)


فتویٰ نمبر : 8695/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں