بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 11/08/2026 |
دارالافتاء
آن لائن بزنس
سوال
میں انوسٹمنٹ کرنا جائز ہے؟ا B4U کیا
جواب
عصر حاضر میں ہمارے یہاں کئی ایسی کمپنیاں وجود میں آئی ہیں جو آن لائن بزنس کرنے کا دعوی کرتی ہیں اور عوام سے سرمایہ لے کر ان کو روزانہ ، ہفتہ وار ،ماہانہ یا سالانہ بنیادوں پر نفع ادا کرنے کا وعدہ کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کے طریقہ کار میں تھوڑا بہت فرق ہوتاہے تاہم اکثر باتوں میں یکسانیت ہوتی ہے ۔ایسی کمپنیوں کے بارے میں لوگ دارالافتاء کی طرف رجوع کرکے ان سے کاروبار کا شرعی حکم دریافت کرتے ہیں ۔ ہماری معلومات کے مطابق درجہ ذیل وجوہات کی بنا پر ان کےکاروبارنہایت مشکوک و مشتبہ ہوتے ہیں۔
1۔ عموما ان کمپنیوں کوحکومت کی طرف سے عوام سے سرمایہ اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اس لیے سرمایہ کے غبن ہونے سے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی ۔
2۔ یہ کمپنیاں عوام سےسرمایہ بہت بڑی مقدار میں جمع کرتی ہیں سرمایہ جمع کرنے کی کوئی حد نہیں ہوتی حالانکہ ان کا کاروبار اگر ہو بھی تو بظاہر اتنا وسیع نہیں ہوتا کہ اس میں سرمایہ کاری کی کوئی حد نہ ہو۔
3۔ اس قسم کی مختلف کمپنیاں آج کل کے معاشی حالات میں جو شرح منافع دیتی ہیں وہ خود ان کے سسٹم کو مشکوک بنا دیتی ہے ۔
4۔عموما ان کا کاروبار بااعتماد اور ماہرین فن مفتیان کرام کی نگرانی میں نہیں ہوتا حالانکہ اتنی بڑی سطح پر کاروبار کو شریعت کے مطابق چلانے کے لیے مفتیان کرام کی نگرانی نہایت ضروری ہوتی ہے ۔
5۔عموما اس قسم کی کمپنیاں اپنے حقائق مخفی رکھتی ہیں ۔یعنی بظاہر کچھ دکھائی دیتا ہے اور اندر کچھ اور معاملات چل رہے ہوتے ہیں ۔
6۔ماضی قریب میں اس طرح کے دلکش عنوانات سے بے شمار لوگوں کے بے تحاشہ رقوم ضائع ہوچکی ہیں" مضاربت " کے نام سے ہونے والے اسکینڈل کسی سے مخفی نہیں جس میں ملک و قوم کا بے تحاشہ سرمایہ چند ہاتھوں میں اکٹھا ہو کر ہڑپ کر دیا گیا اور لاکھوں لوگ اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اب عدالتوں کے چکرلگانے کی بے سود سعی میں وقت و پیسہ ضائع کر رہے ہیں ۔ بد قسمتی سے اس سکینڈل میں بعض سادہ لوح علماء اور دیندار طبقہ بھی بری طرح متاثر اور بد نام ہوا جس کی سزا اب تک بھگت رہے ہیں ۔
ان حالات میں یہ آن لائن کاروبار گو یا اس اسکینڈل کا جدید کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن ہے جو شکوک و شبہات سے بھر پور ہے ۔اس لیے سب سے پہلے تو حکومت کے متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حوالے سے بروقت اقدام کرکے عوام کے سرمایہ کا تحفظ یقینی بنائیں کیونکہ اس طرح ہر چند سال بعد ملک سے سرمایہ کا یوں ہڑپ ہوجانا ملک کے معاشی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کا نوٹس لیں قبل اس سے کہ بہت دیر ہوجائے اور پھر سوائے پچھتانے کے اور کوئی راستہ نہ ہو ۔
نیز علماء اور دیندار طبقہ کو بیدار مغزی سے کام لے کر اس حوالہ سے پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہیے تاکہ کہیں کسی کے مذموم مقاصد کے لیے آلہ کار بن کر دین و اہل دین کی بدنامی کا ذریعہ نہ بنیں ۔
جب کہ عوام الناس کو یہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ اس قسم کی کمپنیوں کے ساتھ کاروبارشکوک و شبہات سے لبریز ہوتے ہیں اور
رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں مشتبہات سے جان بچاناضروری ہے ۔اس لیے زیادہ منافع کے چکر میں پھنس کر کسی مشکوک و مشتبہ کاروبار کا حصہ نہ بنیں ۔
قال اللّه تعالي : ﴿يَا أَيُهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ﴾ (النساء:29)
و قال: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾ (البقرة:188)
و قال النبي ﷺ :الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشَتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ۔(الصحيح للبخاري كتاب الإيمان : ج 1 ص 13) واللّٰه تعالی أعلم بالصواب
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں