بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

قرض لے کر اس پر منافع دینا


سوال

کیا فرماتے ہیں علما کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص پراپرٹی ڈیلر ہے اور ابھی مقروض ہے وہ اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ آپ دس لاکھ روپے قرض دے دیں میرے پاس مختلف کمپنیوں کے شئیرز ہیں وہ آدھے آپ کے ہوجائیں گے اور آپ ان میں شریک ہوجائیں گے ، اور ان شئیرز پر جو منافع آئے گا وہ ھم دونوں میں آدھا آدھا تقسیم ہوگا البتہ جو قرض لیا ہے وہ بعد میں حوالہ کردوں گا اور پھر مذکورہ معاملہ ختم ہوجائے گا ۔۔۔براہ مہربانی شرعی حکم بتائیں اگر مذکورہ معاملہ جائز نہ ہو تو جائز صورت بھی بتا دیجیے۔۔جزاکم اللہ احسن الجزاء

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے خرید وفروخت کے وقت کوئی ایسی  شرط لگانا جائز نہیں جس میں بائع یا مشتری کا فائدہ ہو اور وہ شرط  مقتضائے عقدکے  خلاف ہو ۔نیز قرض خواہ کیلئے قرض  کے بدلے ایسی شرط لگانے  سے اجتناب  ضروری  ہے جس سے سودی منافع حاصل کیے جاتے ہوں:

          صورت مسؤلہ میں (1)اگر قرض کا معاملہ اس  شرط پر ہو رہا ہو کہ مقروض کے شیئرز سے حاصل  ہونے والے  منافع میں دونوں برابر کے شریک رہیں گے تو ایسی صورت میں یہ ایک سودی معاملہ ہے اس لیے ناجائز ہے۔

(2)اور اگر پراپرٹی ڈیلر نقد رقم حاصل کرنے کیلئے  اپنے شیئرز فروخت کرتا ہو تو مشتری کیلئے شیئرز کا خریدنا  دو شرائط کے ساتھ جائز ہے:(1)کمپنی کے کچھ منجمد اثاثے وجود میں آچکے ہو ں ۔

(2)متعلقہ شیئرز والی  کمپنی کسی ناجائز اور حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو ۔

لیکن یا د رہے کہ اگر بائع اور مشتری نے شروع عقد میں یہ شرط لگائی کہ جب بائع رقم واپس کرے گا تو اپنا مبیع (شیئرز) واپس لینے کا  اس کو  اختیار ہوگا  تو اس صورت میں چونکہ یہ شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہے اس  لئے یہ عقد فاسد ہوگا اور معاملہ رہن کے حکم میں رہے گا لہذا مشتری کیلئے  ان شیئرز سے انتفاع لینا  جائز نہ ہوگا  ۔

(3)اگر عاقدین  شروع عقد میں بطور  شرط اس قسم کا تذکرہ نہ کریں بعد میں دونوں اس بات پر اتفاق کریں کہ جب بائع ثمن لوٹائے گا تو شیئرز  اس کو واپس دی جائیگی   تو  شرعا یہ بیع درست  ہے جس میں مشتری کو   شیئرز خریدنے  کے بعدمالکانہ تصرف کا حق حاصل ہوگا اور مشتری کے شیئرز پر جو منافع حاصل ہوں وہ اسی کا حق ہوگا۔البتہ عقد کے بعد کئے جانے والے وعدہ کی پاس داری مشتری کو کرنی  چاہیے۔

وَأَمَّا الذي يَرْجِعُ إلَى نَفْسِ الْقَرْضِ فَهُوَ أَنْ لَا يَكُونَ فيه جَرُّ مَنْفَعَةٍ فَإِنْ كان لم يَجُزْ نَحْوُ ما إذَا أقْرَضَهُ دَرَاهِمَ غَلَّةٍ على أَنْ يَرُدَّ عليه صِحَاحًا أو أَقْرَضَهُ وَشَرَطَ شَرْطًا له فيه مَنْفَعَةٌ لِمَا رُوِيَ عن رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم أَنَّهُ نهى عن قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا وَلِأَنَّ الزِّيَادَةَ الْمَشْرُوطَةَ تُشْبِهُ الرِّبَا لِأَنَّهَا فَضْلٌ لَا يُقَابِلُهُ عِوَضٌ وَالتَّحَرُّزُ عن حَقِيقَةِ الرِّبَا وَعَنْ شُبْهَةِ الرِّبَا وَاجِبٌ هذا إذَا كانت الزِّيَادَةُ مَشْرُوطَةً في الْقَرْض۔(بدائع الصنائع،كتاب القرض ،فصل فى الشروط:1/597)

 البيع الذي تعارف اَهْلُ زَمَانِنَا احْتِيَالًا لَلرِّبَا وَسَمَّوْهُ بَيْعَ الْوَفَاءِ هو في الْحَقِيقَةِ رَهْنٌ وَهَذَا الْمَبِيعُ في يَدِ الْمُشْتَرِي كَالرَّهْنِ في يَدِ الْمُرْتَهِنِ لَا يَمْلِكُهُ وَلَا يُطْلِقُ له الِانْتِفَاعَ ۔۔۔وَلِلْبَائِعِ اسْتِرْدَادُهُ إذَا قَضَى دَيْنَهُ وَلَا فَرْقَ عِنْدَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّهْنِ في حُكْمٍ من الْأَحْكَامِ كَذَا في الْفُصُولِ الْعِمَادِيَّةِ وَعَلَيْهِ فَتْوَى السَّيِّدِ أبي شُجَاعٍ السَّمَرْقَنْدِيِّ وَفَتْوَى الْقَاضِي عَلِيٍّ السُّغْدِيِّ بِبُخَارَى وَكَثِيرٌ من الْأَئِمَّةِ على هذا كَذَا في الْمُحِيطِ ۔

وَصُورَتُهُ أَنْ يَقُولَ الْبَائِعُ لِلْمُشْتَرِي بِعْت مِنْك هذا الْعَيْنَ بِدَيْنٍ لَك عَلَيَّ على أَنِّي مَتَى قَضَيْت الدَّيْنَ فَهُوَ لي أو يقول الْبَائِعُ بِعْتُك هذا بِكَذَا على أَنِّي مَتَى دَفَعْت لَك الثَّمَنَ تَدْفَعُ الْعَيْنَ إلَيَّ كَذَا في الْبَحْرِ الرَّائِقِ ۔(الفتاوى الهندية،كتاب ا لبيوع،الباب العشرون فى البياعات المكروهة والارباح الفاسدة:3/196)

ثم إن ذكرا الفسخ فيه أو قبله أو زعماه غير لازم كان بيعا فاسدا ولو بعده على وجه الميعاد جاز ولزم الوفاء به لأن المواعيد قد تكون لازمة لحاجة الناس وهو الصحيح۔(الدر المختار،كتاب البيوع،7 /547)


فتویٰ نمبر : 2737/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں