بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

ٹائی پہننے کا حکم


سوال

کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شریعت کی رو سے ٹائی پہننا کیسا ہے اور یہ جو مشہو ر ہے کہ ٹائی عیسائیوں کی مذہبی علامت اور صلیب کی نشانی ہے یہ بات کس حد تک درست ہے وضاحت فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ اسلام نے اپنے ماننےوالوں کے لیے کوئی خاص لباس مقرر نہیں کیا بلکہ لباس کے اصول و حدود متعین کردئیےجو بھی لباس ان اصول و حدود  پر پورااترے گا اسے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے تاہم اسلام میں تشبہ بالکفار اور تشبہ بالفساق ممنوع قرار دیاگیا ہے۔

 جہا ں تک ٹائی کا مسئلہ ہے تو اس کے بارے میں تتبع اور تلاش کے بعد  علمائے کرام کے مختلف اقوال سامنے آئے بعض علمائے کرام نے ٹائی کو صلیب کی علامت اور عیسائیوں کامذہبی شعار شمار کرکے حرمت کا فتوی دیا ہے حتی کہ اس میں نماز کو مکروہ تحریمی اور واجب الاعادہ قرار دیا  ہےلیکن دیگر علمائے کرام نے تحقیق کے بعد لکھا ہے کہ ٹائی عیسائیوں کا نہ مذہبی شعار ہے اورنہ ان کے پادری عموما اسے پہنتے ہیں ۔اسی طرح ان کا قومی شعار بھی نہیں اور جہاں تک اکابرین نے حرمت کے فتوے دئے  ہیں وہ انگریزوں کے دور میں حکمران طبقے کے ذہنی غلامی سے بچانے کے لیےدئے تھے  بہر حال ٹائی اغیار کا لباس ہے اگر حرمت کا فتوی نہ دیا جائے تو کراہت سے پھر بھی خالی نہیں کیونکہ اہل صلاح اس لباس کو پسند نہیں فرماتے  یہ علماو صلحاء کے لباس کے خلاف ہے لہذا اس سے پرہیز  کرنااور اس کو ترک کرنا اولی ہے۔تاہم جہاں کہیں ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی امتیازی کیفیت اختیار کرنا مسائل پیدا ہونے کا ذریعہ ہو تو پھر مؤخر الذکر علمائے کرام کی رائے سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

"قال رسول الله صلی الله عليه و سلم "من تشبه بقوم فهو منهم".(ابو داود ، کتاب اللباس ، باب فی لبس الشهرۃ ، حديث 4031)

عن ابن عمرقال قال رسول الله صلی الله عليه و سلم "من تشبه بقوم ای من شبه نفسه بالکفار مثلا فی اللباس و غيرہ او بالفساق او الفجار او باهل التصوف والصلحاءالابرار" فهو منهم"ای فی الاثم و الخير.(مرقاۃالمفاتيح کتاب اللباس الفصل الثانی رقم الحديث :4347 ، 8/155)


فتویٰ نمبر : 4470/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں