بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

دو طلاقوں کے بعد تین مزید طلاق دینا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے تین سال قبل اپنی بیوی کو دو بار یہ الفاظ "میں نے تجھے طلاق دے دی ، میں نے تجھے طلاق دے دی" کہ کر طلاق دی تھی لیکن پھر رجوع کر لیا تھا اور اب اس شخص نے غصہ میں آکر بیوی کو تین بار یہ الفاظ"میں نے تجھے طلاق دی" کہے اور پھر دیوار سے اپنا سر مار کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ آپ لوگوں کی وجہ سے میں نے اپنا گھر تباہ کر دیا ، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان طلاقوں کا کیا حکم ہوگا اور میاں بیوی میں ازدواجی زندگی کو دوبارہ قائم کر نے کے لئے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے نیز یہ کہ طلاق کے بعد اولاد کا حق حضانت کس کو حاصل ہے؟

جواب

شریعت میں شوہر کو تین طلاق دینے کا اختیار دیا گیا ہے  چنانچہ اگر ایک شخص نے دو طلاق رجعی دی ہوں اور پھر رجوع کرنے کے بعد تیسری طلاق دے دے  ، چاہے صریحی الفاظ سے دے یا کنائی الفاظ سے تو عورت مطلقہ مغلظہ ہو کر  شوہر پر حرام ہو جاتی ہے۔

         صورت مسؤلہ میں  شوہر کا بیوی کو دو طلاق رجعی کے بعد رجوع کر لینا درست  تھا اور اس کے بعد شوہر کے پاس صرف ایک  ہی طلاق کا حق باقی تھا لہذا  جب شوہر نے تین دفعہ یہ الفاظ "میں نے تجھے طلاق دی" کہے  تو پہلی دفعہ یہ  الفاظ کہنے سے ہی تیسری طلاق واقع ہوگئی اور عورت مطلقہ مغلظہ ہوکر شوہر پر حرام ہوگئی،طلاق مغلظ کے بعد شوہر اور بیوی کاآپس میں دوبارہ ازدواجی تعلق تبقائم ہو سکتا ہے جب عورت  پہلے شوہر سے عدت گزار کر کسی اور شخص سے نکاح کرے اور  اس دوسرے شوہرسے ہمبستری بھی کرلےاس  کے بعد اگروہ مر جائے یا طلاق دے تو اس دوسرے شوہر سے عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔

         نیز یہ کہ اولاد کی پرورش کی اولین حقدار اسکی ماں ہوتی ہے چاہے میاں بیوی میں نکاح برقرار ہو یا علیحدگی واقع ہوچکی ہو تاہم بیٹے کا یہ حق حضانت سات سال تک جبکہ بیٹی کا سن مشتھاۃ(تقریبا 9 سال) تک اس کی ماں کو حاصل ہوگااور  اس کے بعد والد حقدار ہوگا ،  ہاں اگر والدہ کسی ایسے شخص سے نکاح کرے جو اس بچہ/ بچی کے محارم میں سے  نہ ہو تو والدہ کا حق حضانت ساقط ہو جائے گا۔

فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا۔(الهداية ، كتاب الطلاق ، باب ايقاع الطلاق ، 2/378)

إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها۔ (الهداية ، باب الرجعة ، فصل فيما تحل به المطلقة ، 2/409)

( والحاضنة ) أما أو غيرها ( أحق به ) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب۔۔۔۔۔( وغيرهما أحق بها حتى تشتهي ) وقدر بتسع وبه يفتىوبنت إحدى عشرة مشتهاة اتفاقا ، زيلعي ( وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك ) وبه يفتى لكثرة الفساد۔(الدر المختار ، باب الحضانة ، 3/566)

( و ) الحاضنة ( يسقط حقها بنكاح غير محرمة ) أي الصغير۔ (الدر المختار ، باب الحضانة ، 3/566)


فتویٰ نمبر : 6152/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں