بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

وضو میں پاؤں پر چڑھائے گئے کور پر مسح کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آٹھ سال پہلے میں نے پاؤں کاآپریشن کیاتھا، آپریشن کے بعد ڈاکٹروں نے میرے لیے مصنوعی کوربنایا،جسے پاؤں کے اوپر میں چڑھاتاہوں ،اور اس کے بغیر میرے لیے چلنا پھرنا مشکل ہے۔ وضو کے وقت اس کور کو اتارنے میں میرے لیے مشقت ہوتی ہے ۔خاص کر کسی مجلس میں یاکسی کی موجودگی میں جب اسے پہنتا ہوں تو ستر کھولنا پڑتا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ: (1) کیا یہ کور جبیرہ کے حکم میں ہوکر میرے لیے اس پرمسح کرنا جائز ہے؟ یااسے اتار کراصل پاؤں دھونا ضروری ہے؟ واضح رہے کہ میرا پاؤں کٹا نہیں بلکہ سالم ہے البتہ پتلا اور کمزورہونے کی وجہ سے اس پر یہ اضافی کور چڑھایاگیاہے۔ (2) اس کور پر میں آٹھ سال سے مسح کرکے نماز پڑھتا رہا،اگر اس پر مسح کرنا درست نہیں بلکہ دھونا لازمی ہے تو ان آٹھ سالوں کی نمازوں کاکیا ہوگا؟ ان کااعادہ لازمی ہے کیا؟

جواب

واضح رہے کہ مصنوعی پاؤں دوطرح کاہوتاہے ایک یہ کہ کسی شخص کا اصلی پاؤں ٹخنے سے اوپرکٹ گیا ہو اور اس کی جگہ دوسرا مصنوعی پاؤں لگادیاگیا ہو ایسی صورت میں تو وضو میں اس کے دھونے کاحکم ساقط ہوجاتا ہے، دوسری صورت یہ ہے  کہ اصل پاؤں تو سالم ہو البتہ   کسی  عذر مثلاً اپاہج  یا شل ہو نےکی وجہ سے  اس پر  اضافی کور چڑھایاگیاہو پھر ایسے کور  کو اتارنے سے اگر پاؤں کوضرر لاحق ہوتاہویعنی زخمی ہونے یاہڈی وغیرہ ٹوٹنے کاخدشہ ہو تو ایسی صورت میں اس پر مسح جائز ہوگا لیکن اگر کور اتارنے سے کوئی ضرر لاحق نہ ہوتا ہوصرف کور اتارنے اور چڑھانے میں مشقت ہو  تو اس عذر کی وجہ سے دھونے کاحکم ساقط نہ ہوگا   بلکہ کور کو اتار کر پاؤں کو دھونا ضروری  ہوگا۔   صورت مسئولہ میں چونکہ سائل کاپاؤں کٹا نہیں بلکہ سالم ہے البتہ پتلا ہونے کی وجہ سے اس پر ایک اضافی کور چڑھایاگیاہے جسے اتارنے میں پاؤں کو کسی قسم کاضرر نہیں،صرف اتارنے کی مشقت ہوتی ہے۔ایسے کور پر مسح جائز نہیں بلکہ اسے اتار کر  پاؤں کادھونا ضروری ہے۔

(2) اس صورت میں چونکہ پاؤں کادھونا ضروری ہے اس لیےجتنی مدت  سائل نے پاؤں کودھویا نہیں بلکہ مسح کرکے نمازیں پڑھتا رہا اس مدت   میں وضو کے ناقص ہونے کی وجہ  سے اس کی نمازیں صحیح نہ ہوئیں،لہذاسائل پر لازم ہے  کہ وہ اپنی ان تمام نمازوں  کاحساب لگاکر قضاء کرے، اگر اپنی زندگی میں اس نے وہ تمام نمازیں لوٹائی توفبھا ورنہ جتنی نمازیں وہ نہ لوٹاسکا  توترکہ کے ثلث سے ان کےفدیہ کی  وصیت  کرے۔

         "وَأَمَّا شَرَائِطُ جَوَازِهِ فَهُوَ أَنْ يَكُونَ الْغَسْلُ مِمَّا يَضُرُّ بِالْعُضْوِ الْمُنْكَسِرِ وَالْجُرْحِ وَالْقُرْحِ أو لَا يَضُرُّهُ الْغَسْلُ لَكِنَّهُ يُخَافُ الضَّرَرَ من جِهَةٍ أُخْرَى بِنَزْعِ الْجَبَائِرِ فَإِنْ كان لَا يضره وَلَا يُخَافُ لَا يَجُوزُ وَلَا يَسْقُطُ الْغَسْلُ لِأَنَّ الْمَسْحَ لِمَكَانِ الْعُذْرِ وَلَا عُذْرَ". (بدائع الصنائع،فصل المسح علی الخفین،ج1ص151)

"وَلَوْ قُطِعَتْ يَدُهُ أو رِجْلُهُ فلم يَبْقَ من الْمِرْفَقِ وَالْكَعْبِ شَيْءٌ سَقَطَ الْغُسْلُ وَلَوْ بَقِيَ وَجَبَ كَذَا في الْبَحْرِ الرَّائِقِ وَكَذَا غَسْلُ مَوْضِعِ الْقَطْعِ هَكَذَا في الْمُحِيطِ".(الفتاوٰی الھندیۃ،کتاب الطھارۃ،ج1ص54)

"رَجُلٌ يَرَى التَّيَمُّمَ إلَى الرُّسْغِ وَالْوِتْرَ رَكْعَةً ثُمَّ رَأَى التَّيَمُّمَ إلَى الْمِرْفَقِ وَالْوِتْرَ ثَلَاثًا لَا يُعِيدُ ما صلى وَإِنْ صلى كَذَلِكَ عن جَهْلٍ من غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا ثُمَّ سَأَلَ وَأُمِرَ بِالثَّلَاثِ يُعِيدُ ما صلى".(الفتاوٰی الھندیۃ،  کتاب الصلوٰۃ،باب قضاء الفوائت ج1ص184)

"قوله ( أو دليله ) أي دليل العلم وهو الكون في دار الإسلام لاشتهار الفرائض فيها فمن أسلم فيها لزمه قضاء ما ترك". (ردالمحتار، کتاب الصلوٰۃ،باب قضاء الفوائت ج2ص536)


فتویٰ نمبر : 8687/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں