بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

دلہن کی گاڑی کے سامنے بکرا ذبح کرنا


سوال

کیافرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں شادی کے موقع پر جب دولہن کودولہا کے گھر میں داخل کرتے ہیں تو داخل ہونے سے پہلے دولہن کی گاڑی کے سامنے بکرا ذبح کرتے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ بھئی یہ کیوں کرتے ہو؟ تو کہتے ہیں کہ ہم نیک فالی کے لیے کرتے ہیں ۔یہاں بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس بکرے کاگوشت کھانا جائز نہیں کیونکہ غیراللہ کی تعظیم کے لیے ذبح کیاگیا ہے لہٰذا " ماأھل بہ لغیر اللہ" میں داخل ہے۔تحقیقی بات کیا ہے ؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

"ماأھل بہ لغیراللہ" سے مراد وہ جانور ہے جوبقصد تقرب الی غیراللہ ذبح کیاجائےاور اراقۃ الدم سے مقصود  اس غیر کی تعظیم ہو اور اسے باعث ثواب سمجھاجاتاہو،ایسا جانور حرام ہے اگر چہ ذبح کے وقت اس پر اللہ کانام لیاجائے ۔ لیکن جہاں پر  نذر  اور ذبح میں غیراللہ کی تعظیم وتقرب  کی نیت  نہ ہو تووہ "ماأھل بہ لغیراللہ" میں داخل نہیں۔ دلہن کی رخصتی کے وقت گاڑی کے سامنے  بکرا یامرغی وغیرہ عموماً   ایک علاقائی رسم کے طور پر ذبح کیاجاتاہے ،غیراللہ کی تعظیم یاتقرب مقصود نہیں ہوتا۔لہٰذا اگر اس موقع پر بکرے کاذبح کرنا کسی غلط عقیدے پر مبنی نہ ہو  بلکہ محض خوشی کی خاطر یارسم کے طور پر ہو  تو یہ "ماأھل  به لغیر اللہ "میں داخل نہیں اور اس کاگوشت کھانا جائز ہے،تاہم یہ چونکہ ایک لایعنی رسم ہے ا س لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔اوراگر  کہیں جلب منفعت کے لیے مؤثر بالذات سمجھ کر اس کاالتزام کیا جاتا ہو اورا س کے نہ کرنے میں بد شگونی کاتصور ہو توایسی صورت میں  ا س کے ناجائز ہونے میں کوئی شک نہیں اورا س کاترک واجب ہوگا۔

"قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ المَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الأَسَدِ".(صحیح البخاری،باب الجذام7/126رقم حدیث 5707)

"وأصله فيما يقال التطير بالسوانح والبوارح من الطير والظباء وغيرهما وكان ذلك يصدهم عن مقاصدهم فنفاه الشرع وأبطله ونهاهم عنه وأخبر أنه ليس له تأثير في جلب نفع أو دفع ضر".(مرقاۃ،کتاب الطب والرقی،ج8ص341)

"قال الطيبي وفيه أن من أصر على أمر مندوب وجعله عزما ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر".(مرقاۃ،باب الدعاء فی التشھد ج3ص31)

"( ذبح لقدوم الأمير ) ونحوه كواحد من العظماء ( يحرم ) لأنه أهل به لغير الله ( ولو ) وصلية (ذكر اسم الله تعالى ولو ) ذبح (للضيف لا ) يحرم".(الدرالمختار،الذبائح،ج9ص449)


فتویٰ نمبر : 4468/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں