بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بانڈز کی خرید و فروخت


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بانڈ کی خرید وفروخت کرنا درست ہے یا نہیں؟شرعی دلائل سے رہنمائ فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ بعض اوقات حکومت کو قرض کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ لوگوں سے قرض لے کر ان قرضوں کے عوض میں قرض خواہ کو توثیق کے لیے تحریر لکھ دیتے ہیں جس کو بانڈ کہتے ہیں بانڈ کا معنی ہے قرض کا وثیقہ لہذابانڈچونکہ قرض کا وثیقہ ہے  اور قرض کی خرید وفروخت جائز نہیں اس لیےنہ بانڈ کے مالک کے لیے  فروخت کرنا جائز ہے کیونکہ یہ غیرمدیون پر دین فروخت کرنا ہے جو کہ ناجائز ہے اور نہ دوسرے لوگوں کے لیے ان بانڈز کا خریدنا جائز ہے۔البتہ اگر کوئی شخص بانڈ خریدنے کے بعد سودی منافع سے جان بچانا چاہتا ہے تو اس کو چاہیے کہ کسی شخص سے قیمت اسمی( جتنے کا وہ بانڈ ہے )کے بقدر قرض لے کر قرض کی ادائیگی میں اسے بانڈ دے دے اس طریقہ سے وہ قرض فروخت کرنے سے بھی بچ جاے گا اور اپنی قیمت اسمی بھی وصول کرلےگا ۔

والدلیل علی ذالک:

"وقال الكاساني رحمه الله "ولا ينعقد بيع الدين من غير من عليه الدين لان الدين اما ان يكون عبارة عن مال حكمي في الذمة واما ان يكون عبارة عن فعل تمليك المال وتسليمه وكل ذالك غير مقدور التسليم في حق البائع ولو شرط التسليم علی المديون لا يصح ايضا لانه شرط التسليم علی غير البائع فيكون شرطا فاسدا فيفسد البيع"                                                              (بدائع الصنائع ج5ص148)


فتویٰ نمبر : 2728/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں